مقبوضہ جموں و کشمیر

نیشنملازمین کا ملازمت کے تحفظ، مستقلی، مساوی تنخواہوں اور سماجی تحفظ کا مطالبہل ہیلتھ مشن ملازمین کی ہڑتال میں مزید 72 گھنٹے کی توسیع

سرینگر: بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل ہیلتھ مشن ایمپلائز ایسوسی ایشن کے ملازمین نے اپنے جاری احتجاج اور ہڑتال میں مزید72گھنٹے کی توسیع کر دی ہے۔ ملازمین تنخواہوں میں مساوات، ملازمت کے تحفظ، مستقلی اور سماجی تحفظ سمیت اپنے دیرینہ مطالبات کے حل کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔
ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ان کے طویل عرصے سے زیر التوا مطالبات تاحال تسلیم نہیں کیے گئے جبکہ قابض حکام کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے کوئی ٹھوس اور مقررہ مدت پر مبنی طریقہ کار بھی وضع نہیں کیا گیا۔ ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں ہڑتال کا آغاز 9 ستمبر کو پورے جموں و کشمیر میںکیا تھا ۔ ملازمین اپنے مطالبات منظور نہ کیے جانے کے باعث ہڑتال میں کئی مرتبہ توسیع کرچکے ہیں ۔ اس دوران ملازمین نے ضلعی، بلاک اور مختلف طبی اداروں کی سطح پر احتجاجی مظاہرے کیے۔ملازمین ایک جامع ملازمت پالیسی، دیگر ریاستوں میں نیشنل ہیلتھ مشن کے ملازمین کے مساوی معاوضے میں نظرثانی، ملازمت کے تحفظ اور مستقلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ایک این ایچ ایم ملازم نے میڈیا کو بتایا کہ ہم کئی برسوں سے شعبہ صحت میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور مشکل حالات کے دوران بھی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے رہے ہیں۔ اس کے باوجود ہمارے مستقبل کے حوالے سے اب تک کوئی واضح پالیسی موجود نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ایسا مناسب طریقہ کار وضع کرے جو ہماری خدمات کو تسلیم کرے اور ہمیں ملازمت کا تحفظ فراہم کرے۔ایک اور ملازم نے کہا کہ ان کے مسائل صرف تنخواہوں تک محدود نہیں بلکہ سروس مراعات میں عدم مساوات اور طویل المدتی ملازمت کے تحفظ جیسے معاملات بھی ان کے مطالبات میں شامل ہیں۔ایک خاتون ملازمہ نے کہا کہ ملازمت کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ان کارکنوں کے لیے بڑی تشویش بن چکی ہے جنہوں نے نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت کئی سال خدمات انجام دی ہیں۔ہماری اپنی خاندانی اور مالی ذمہ داریاں ہیں، لیکن اس کے باوجود ہمارے مستقبل کے بارے میں کوئی یقین دہانی نہیں ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button