بھارت

امریکی ایوان نمائندگان میں روس پر پابندیوں کا بل منظور،بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی

امریکی صدر کو روسی تیل کے خریدار ممالک پرسو فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا

اسلام آباد: امریکی ایوان نمائندگان میں روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا گیا،جس کے بعد بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بل کے تحت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو روسی تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر 100 فیصدتک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔بل میں روسی حکام،مالیاتی اداروں،توانائی کے شعبے اورپابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہونے والے روسی آئل ٹینکرز کے نیٹ ورک پر مزید پابندیاں شامل ہیں۔بھارت اور چین روسی توانائی کے بڑے خریدیداروں میں شامل ہیں،اس لیے نئی قانون سازی کے تحت دونوں ممالک امریکی ٹیرف کے ممکنہ دائرے میں آسکتے ہیں،تاہم 100 فیصد ٹیرف عائد کرنا لازمی نہیں بلکہ اس کا اختیار صدر ٹرمپ کو دیا گیا ہے۔
بل کے تحت روس کے ساتھ دفاعی تعاون میں ملوث ایرانی اداروں کو بھی پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے، امریکی ایوانِ نمائندگان سے منظوری کے بعد بل صدر ٹرمپ کے دستخط کے لیے وائٹ ہاو¿س بھیج دیا گیا ہے۔
روس کے حکام و اداروں اور اس کے تیل و گیس کے تجارتی شراکت داروں، بشمول بھارت اور چین پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کا ترمیمی بل 159 کے مقابلے میں 262 ووٹوں سے پاس ہو گیا ہے۔ یہ اقدام اب قانون سازی کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔اس بل میں ٹرمپ کو چین، بھارت اور دیگر کئی ممالک پر سخت ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے تاکہ روسی تیل اور گیس پر ان کا انحصار کم کیا جا سکے، بل کی منظوری کے بعد ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے صحافیوں سے گفتگو کرتے چین اور بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے لیے بہتر یہی ہوگا کہ آپ اپنا تیل اور گیس کہیں اور سے خریدیں۔
یہ قانون سازی ٹرمپ کو ایک نیا قانونی راستہ فراہم کرتی ہے جس کے تحت وہ نئی دہلی کی جانب سے روسی توانائی کی مسلسل خریداری کے جواب میں بھارتی درآمدات پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کر سکتے ہیں۔
چونکہ بھارت اور چین روسی خام تیل کے سب سے بڑے خریداروں میں شامل ہیں، اس لیے اس بل کے حامیوں نے واضح طور پر دونوں ممالک کو ان ٹیرف شقوں کا بنیادی ہدف قرار دیا ہے۔
سینیٹ نے اس سے قبل سات اگست کو 11 کے مقابلے میں 86 کی بھاری اکثریت سے اس قانون سازی کی توثیق کی تھی، حالانکہ بعد میں ایوانِ نمائندگان کے اندر اس کی ٹیرف شقوں سے متعلق تنازعات کے باعث اس کی رفتار دھیمی پڑ گئی تھی۔
ہاو¿س سے منظوری مکمل ہونے کے بعد یہ قانون اب صدر ٹرمپ کے پاس دستخط کے لیے بھیجا جا رہا ہے، جس کے بعد انتظامیہ کے پاس روس اور روسی توانائی کی تجارت جاری رکھنے والے ممالک پر دباو بڑھانے کے لیے اضافی پابندیوں اور ٹیرف کے اختیارات ہوں گے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button