مقبوضہ جموں و کشمیر

جموں میں بے دخلی کی کارروائی کے بعد روہنگیا خاندان بے گھر

جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے جموں خطے میں ان زمینداروں کو بے دخلی کے نوٹس جاری کیے جنہوں نے اپنی زمین کے پلاٹ روہنگیا مسلمانوں کو کرائے پر دے رکھے تھے جس سے نروال کے علاقے کاریانی تالاب کی عارضی بستیوں میں مقیم سینکڑوں روہنگیا خاندان بے گھر ہوگئے ہیں
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق زمینداروں کی جانب سے جگہ خالی کرنے کا کہنے کے بعد روہنگیا مسلمان اپنی جھونپڑیاں اور دکانیں خود اکھاڑتے اور اپنا سامان سمیٹتے ہوئے نظر آئے۔مقامی لوگوں کے مطابق تقریباً 80 سے 90 جھونپڑیوں میں رہنے والے 350 سے 500 خاندان اس کارروائی سے متاثر ہوئے ہیں جن میں سے بہت سے خاندان گزشتہ 15 سے 16 سال سے یہاں مقیم تھے۔ متاثرین نے بتایا کہ حکام نے پہلے تقریباً 30 سے 40 دکانیں ہٹوائیں اور اس کے بعد خاندانوں کو ملحقہ رہائشی جھونپڑیوں کو خالی کرنے کی ہدایت کی۔ایک متاثرہ شخص نے بتایاکہ ہم غریب مزدور ہیں اور ہمارے پاس جانے کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ ہم اب سڑکوں پر بیٹھے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی جمع پونجی خرچ کرکے ان جگہوں کو قابلِ رہائش بنایا تھا اور میانمار میں ظلم و ستم سے بچنے کے بعد ان کے پاس یو این ایچ سی آر کے پناہ گزین کارڈ بھی موجود ہیں۔
روہنگیا ہیومن رائٹس انیشی ایٹو نے کہا ہے کہ تقریباً 350 رہائشی جھونپڑیاں پہلے ہی ہٹائی جاچکی ہیں جس سے خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت تقریباً 1,800 افراد متاثر ہوئے ہیں، جبکہ انہیں متبادل رہائش فراہم نہیں کی گئی۔ تنظیم نے کہا کہ بعض بے گھر خاندان حیدرآباد یا بنگلہ دیش منتقل ہونے پر غور کر رہے ہیں جبکہ پولیس انہیں دوسری جگہ عارضی رہائش گاہیں قائم کرنے سے روک رہی ہے۔
بے دخلی کی کارروائی مئی 2026 میں آبادیاتی تبدیلیوں سے متعلق بھارتی حکومت کی جانب سے قائم کی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کے جموں کے دورے اور روہنگیا بستیوں کے معائنے کے تقریباً ایک ماہ بعد سامنے آئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں 7,656 روہنگیا افراد کی شناخت کی گئی ہے جن میں سے 6,737 جموں خطے میں مقیم ہیں۔انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس اقدام کو جبری بے دخلی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آئین کے آرٹیکل 14 اور 21 کے تحت حاصل تحفظ اورعدمِ واپسی کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button