مقبوضہ جموں و کشمیر

ریاستی حیثیت موثر حکمرانی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے: جی سی سی

سرینگر: سابق آئی اے ایس افسر اور گروپ آف کنسرنڈ سٹیزنز (جی سی سی) کے چیئرمین خورشید احمد گنائی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں موثر حکمرانی کے لیے ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق خورشید گنائی نے سرینگر میں محمد شفیع پنڈت میموریل لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ خطے کی ریاستی حیثیت ختم ہونے کے بعد حکمرانی کی کارکردگی کم موثر ہو گئی ہے اور انتظامی پابندیوں کے باعث منتخب حکومت کے اختیارات محدود ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہابدقسمتی سے آج کل بہت سے لوگ منتخب حکومت کی نسبتاً کمزور کارکردگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ منتخب حکومت اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے۔انہوں نے کہا کہ جی سی سی کی جانب سے دی گئی تجاویز پر عمل درآمد کی رفتار حوصلہ افزا نہیں ہے۔
دریں اثناءتقریب سے خطاب کرنے والے بھارت کے سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے بھی ریاستی حیثیت کی بحالی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکومت نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اسمبلی انتخابات کے بعد ریاستی حیثیت بحال کر دی جائے گی۔ لیکن اس میں اتنی تاخیر کیوں ہو رہی ہے، یہ باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت ختم کرنا ناانصافی تھی اور لوگوں نے 2024 کے اسمبلی انتخابات میں بڑی تعداد میں شرکت کی۔ انہوںنے کہا کہ کشمیر کو جمہوریت، مفاہمت اور اپنے پرانے سماجی رشتوں کی بحالی کی ضرورت ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button