مقبوضہ جموں وکشمیرمیں مختلف بہانوں سے لوگوں کے کاروبار اور روزگار کو تباہ کیاجارہا ہے
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں لوگوں کاکہناہے کہ قابض حکام مختلف بہانوں سے ان کے کاروبار اور روزگار کو تباہ کر رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بارہمولہ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے نام پر تقریباً دو درجن گاڑیاں ضبط کیے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مقامی لوگوں نے اسے کشمیریوں کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے ایک سوچا سمجھا منصوبہ قرار دیا۔بھارتی پولیس نے ہفتے کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ درست دستاویزات نہ ہونے کے باعث ایک درجن سے زائد گاڑیاں ضبط کی گئیں، جبکہ آٹھ گاڑیوں کے چالان کیے گئے۔
مقامی لوگوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں بالخصوصً منشیات کے خلاف مہم یا ٹریفک قوانین کے نام پر ٹرانسپورٹروں اور چھوٹے تاجروں کو ہراساں کرنے، ان کی گاڑیاں ضبط کرنے اور انہیں مالی مشکلات میں دھکیلنے کاذریعہ بن چکی ہیں۔ٹرانسپورٹروں نے کہا کہ ضبط کی گئی بہت سی گاڑیاں غریب خاندانوں کے لیے آمدنی کا واحد ذریعہ ہیں اور مناسب قانونی کارروائی کے بغیر ان کی ضبطی کشمیریوں کا معاشی گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں مختلف بہانوں سے لوگوں کے روزگار کو منظم انداز میں نشانہ بنائے جانے کا نوٹس لیں۔





