بی جے پی حکومت نے جموں وکشمیر کے عوام کو سیاسی حقوق سے محروم کر دیا: اجے سدھوترا
جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں نیشنل کانفرنس کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری اور سابق وزیر اجے کمار سدھوترا نے کہا ہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے اگست 2019میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے مقبوضہ علاقے کی تاریخی حیثیت کو مجروح کیا اور اس کے عوام کو سیاسی حقوق سے محروم کر دیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اجے سدھوترا جموں میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مکمل ریاستی حیثیت کی مسلسل عدم بحالی اور موجودہ دوہرے نظام نے مقبوضہ علاقے میں حکمرانی، ترقی اور جوابدہی کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو اگست 2019 سے قبل حاصل حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرنے کا حق ہے، جبکہ منتخب حکومت کو مناسب اختیارات بھی دیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کی سربراہی میں قائم نظام کے درمیان اختیارات کی تقسیم نے ذمہ داری کا تعین مشکل بنا دیا ہے۔2024 کے اسمبلی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں نے بی جے پی کو 29 نشستیں اس توقع کے ساتھ دی تھیں کہ اس کے نمائندے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے نئی دہلی پر مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے دباو ڈالیں گے، لیکن بی جے پی کے نمائندے اس معاملے کو موثر انداز میں اٹھانے میں ناکام رہے اور جموں کے عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس آئینی اور جمہوری ذرائع سے جموں و کشمیر کی مکمل ریاستی حیثیت کی بحالی اور یہاں کے عوام کے سیاسی، معاشی اور سماجی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔







