بھارت

بھارت :آسام میں مسلمان طالب علم پر پولیس کاتشدد، جان سے مارنے کی دھمکیاں

گوہاٹی : بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست آسام میں پولیس نے خواتین پرتشدد کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکت کرنے پر 20 سالہ مسلمان طالب علم اور سماجی کارکن کو تشدد کا نشانہ بنایا، اسلاموفوبک جملے کسے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی میڈیا ادارے مکتوب میڈیا نے اپنی ایک رپورٹ میں کہاکہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کے رکن ساحل خان نے بتایا کہ 13 اکتوبر کو گوہاٹی میں خواتین کے خلاف تشدد کی اجتماعی مذمت کے لیے قائم تنظیم ”ویمن اگینسٹ وائلنس کلیکٹو“ کے زیر اہتمام احتجاج میں شرکت کے کچھ ہی دیر بعد پولیس اہلکاروں نے انہیںحراست میں لیا۔
یونیورسٹی کے پہلے سال کے طالب علم ساحل خان نے بتایا کہ احتجاجی مقام سے تقریباً 200 میٹر کے فاصلے پر پولیس نے انہیں اور ان کے ایک دوست کو روک لیا اور ابتدا میں ان کے اسکوٹر کے کاغذات طلب کیے۔ مطلوبہ دستاویزات پیش کرنے کے باوجود پولیس اہلکاروں نے انہیں وجہ بتائے بغیر پولیس کی گاڑی میں بیٹھنے کا حکم دیا۔ جب انہوں نے پولیس کے اس اقدام پر سوال اٹھایا تو اہلکاروں نے انہیں بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا، زبردستی گاڑی میں بٹھایا اور بار بار تشدد کا نشانہ بنایا۔
ساحل خان نے بتایاکہ گاڑی کے اندر انہوں نے مجھے بالوں سے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں احتجاج میں کیوں شریک ہوا، کیونکہ میں مسلمان ہوں۔ پولیس نے مجھے بے رحمی سے مارا پیٹا۔ پولیس اہلکار پن بازار پولیس اسٹیشن کے پچھلے دروازے سے مجھے اندر لے گئے اورتشدد اور بدسلوکی کرتے رہے۔
ساحل خان کے مطابق پولیس اہلکار انہیں بار بار ”میاں“ کہہ کر مخاطب کرتے رہے اور سوال کرتے رہے کہ ایک مسلمان عوامی احتجاج میں کیوں شریک ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پولیس اہلکاروں نے انہیں غائب اور قتل کرنے کی دھمکیاں دیں۔ آسام میں ”میاں“ کی اصطلاح اکثر توہین آمیز انداز میںبنگالی نژاد مسلمانوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
ساحل خان نے سوال اٹھایاکیا خواتین کے خلاف جرائم پر انصاف کا مطالبہ کرنا جرم ہے؟ یا مسلمان ہونا جرم ہے؟ان کے مطابق احتجاج میں 200 سے زائد افراد نے شرکت کی لیکن مظاہرے کے بعد پولیس نے صرف انہیں نشانہ بنایا۔ساحل خان کی گرفتاری کے بعد ان کے ساتھی مظاہرین نے مختلف پولیس اسٹیشنوں میں ان کی تلاش شروع کر دی، کیونکہ پولیس نے ابتدا میں انہیں گرفتارکرنے سے انکار کر دیا تھا۔
احتجاج کی منتظم اور ایس ایف آئی کی ریاستی جوائنٹ سیکریٹری اتپولا داس نے بتایا کہ مظاہرین کی جانب سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کیے جانے کے بعد پولیس نے بالآخر تسلیم کیا کہ ساحل خان پن بازار پولیس اسٹیشن میں زیرِ حراست ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے ابتدا میں خان کی حراست کا جواز یہ الزام لگا کر پیش کیا کہ وہ لاپروائی سے گاڑی چلا رہے تھے۔ بعد ازاں خان کو رہا کر دیا گیا۔
اتپولا داس نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے فرقہ وارانہ نوعیت کے تبصرے بھی کیے ، انہوں نے خان کو ان کی مذہبی شناخت کی وجہ سے نشانہ بنانے پر سوال اٹھایا۔اس واقعے نے مودی کے بھارت میں مذہبی امتیاز اور اپنے جمہوری حقوق استعمال کرنے والے مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے حوالے سے ایک بار پھر تشویش پیدا کر دی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button