بھارت

بھارت :اتر پردیش میں دلت شخص کو اس کی 10 سالہ بیٹی کے سامنے تشدد کا نشانہ بناکر قتل کر دیا گیا

لکھنو: بی جے پی کے زیر اقتدار بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک 35 سالہ دلت شخص کو اس کی 10 سالہ بیٹی کے سامنے تشدد کا نشانہ بناکرقتل کر دیا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سیتاپور کے علاقے میں منوج گوتم نامی دلت شخص کو اس کی 10 سالہ بیٹی کے سامنے تشدد کرکے قتل کیا گیا۔مقتول کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ حملہ آوروں نے اس کے خلاف ذات پات کی بنیاد پر توہین آمیز الفاظ استعمال کیے اور اسے لاٹھیوں سے مارا پیٹا۔
پولیس کے مطابق منوج گوتم اپنی بیٹی کے ہمراہ مقامی بازار سے گھر واپس جا رہا تھا کہ کملہ پور پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع گاو¿ں لدھورا کے قریب چند افراد نے اسے روک کر تشدد کا نشانہ بنایا۔اسے فوری طورپراسپتال پہنچایا گیا لیکن ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میںمقتول کی غم زدہ بیوی اور بچے اس کی خون میں لت پت لاش کے پاس بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انکور اگروال نے کہا کہ دو خواتین سمیت چھ افراد کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی متعلقہ دفعات اور درج فہرست ذاتوں و قبائل پر مظالم کی روک تھام کے قانون کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔پولیس کے مطابق مقتول گوتم نے اس سے قبل بھی ملزمان کے خلاف درج فہرست ذاتوں و قبائل سے متعلق قانون کے تحت مقدمہ درج کرایا تھا۔
بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد نے قتل کی مذمت کرتے ہوئے واقعے کو انتہائی افسوس ناک، شرم ناک اور تشویش ناک قرار دیا۔انہوں نے تمام ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرنے، معاملے کی منصفانہ تحقیقات کرانے اور قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے کے لیے تنظیم کے عزم کا اعادہ کیا۔
بھارت کے مختلف علاقوں بالخصوص بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں مسلمانوں اور دلتوں سمیت اقلیتی برادریوں کو مختلف بہانوں سے ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے امتیازی سلوک، ہراسانی اور تشدد کا سامنا ہے۔
مسلمانوں کو اکثر گائے ذبح کرنے، گائے کا گوشت کھانے، مذہبی رسومات ادا کرنے اور بین المذاہب تعلقات جیسے الزامات کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ دلت برادری کو بدستور ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک، سماجی اخراج اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ہندوتوا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے ایسا ماحول پیدا ہواہے جس میں مذہبی عدم برداشت اور ذات پات کی بنیاد پر تعصب بڑھ رہا ہے۔ہجومی تشدد، عبادت گاہوں پر حملوں، نفرت انگیز تقاریر اور امتیازی سلوک کے واقعات نے اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی اور قانون کے مطابق مساوات کے تحفظ کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
ان واقعات نے کمزور اور محروم برادریوں کی سلامتی اور عزت و وقار کے تحفظ کے لیے مو¿ثر قانونی کارروائی کی ضرورت کو مزید اجاگر کیا ہے، تاکہ مذہب، ذات یا سیاسی وابستگی سے قطع نظر ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button