جموں: محکمہ سیاحت کے ملازمین کا مطالبات کے حق میں دھرنا 20روز بھی جاری
جموں: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں محکمہ سیاحت کے ملازمین کا اپنے دیرینہ مطالبات کے حق میں احتجاجی دھرنا آج مسلسل 20ویں روز بھی جاری ہے۔ ملازمین تنخواہوں کی عدم ادائیگی، پروویڈنٹ فنڈ ( پی ایف )کی 52 ماہ کی واجب الادا رقوم کی عدم فراہمی اور تقریبا 12 سال سے زیر التوا محکمانہ ترقی جیسے بنیادی مسائل کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، جموں و کشمیر ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن ایمپلائز یونین(جے کے ٹی ڈی سی ) جموں ڈویژن نے ملازمین کے جائز مسائل کے حل میں مسلسل تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔یونین کے صدر قمر دین نے علاقے کے وزیراعلی، چیف سیکرٹری اور ٹی ڈی سی کے مینیجنگ ڈائریکٹر سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی طور پر مداخلت کریں اور تمام زیر التوا مسائل کو ایک مقررہ مدت کے اندر حل کو یقینی بنائیں۔
یونین نے بتایا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس تقریبا 12 سال سے منعقد نہیں ہوا ہے۔ یونین نے مطالبہ کیا کہ ریٹائرمنٹ کے واجب الادا فوائد ادا کیے جائیں، کارپوریشن کے لیے مناسب بجٹ فراہم کیا جائے، 20 سال سے زائد عرصے سے خدمات انجام دینے والے اہل ملازمین کو مستقل کیا جائے، خالی اسامیاں پر کی جائیں اور تنخواہوں سمیت دیگر جائز مراعات کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے۔یونین نے جدید کاری، ادارہ جاتی استحکام کو مضبوط بنانے، اور طویل مدتی مالی پائیداری کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع پالیسی وضع کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
یونین کا کہنا ہے کہ ملازمین نے طویل مالی مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کے باوجود سیاحت کے شعبے میں پوری لگن سے خدمات انجام دی ہیں۔ تاہم، ان کے مسائل حل کرنے میں مسلسل ناکامی نے ان کے حوصلے، مالی تحفظ اور ان کے خاندانوں کے روزگار پر منفی اثر ڈالا ہے۔ یونین نے پرامن اور جمہوری جدوجہد کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ ملازمین کے دیرینہ مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جاتے۔





