کپواڑہ :بھارتی فورسز نے 2 کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلے میں شہید کر دیا
مبصرین کا ماورائے عدالت قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اظہار تشویش
سرینگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ ترین کارروائی کے دوران آج ضلع کپواڑہ میں دو کشمیری نوجوانوں کو ایک جعلی مقابلے میں شہید کردیا۔
شمیر میڈیا سروس کے مطابق فوجیوں نے نوجوانوں کو ضلع کپواڑہ کے علاقے کیرن جمگنڈ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران شہید کیا۔ بھارتی فورسز نے علاقے میں آپریشن جمعے کے روز شروع کیاتھا جوتاحال جاری ہے۔
مقامی لوگوں، مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارتی فورسزکی طرف سے محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران نہتے کشمیری نوجوانوں کے جعلی مقابلوں میں قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو مختلف علاقوں ، جیلوں یا تفتیشی مراکز سے لا کر تلاشی آپریشنوں کے دوران ماورئے عدالت قتل کیا جا تا ہے اور پھر انہیں ” عسکریت پسند”قرار دے دیا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بارہا مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے قتل کے ماورائے عدالت واقعات اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کامطالبہ کیا ہے۔
بھارت نے مقبوضہ جموںوکشمیرپراپنے تسلط کوبرقرار رکھنے کیلئے 10لاکھ سے زائد فورسز اہلکار علاقے میں تعینات کررکھے ہیں جنہیں کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت کشمیریوں کے قتل ، گرفتاری سمیت ان پر ہرطرح کے مظالم روا رکھنے کے بے لگام اختیارات حاصل ہیں۔
جنوری 1989 سے اب تک بھارتی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 96ہزار 5سو 7 سے زائد کشمیری شہیدہو چکے ہیں، جن میں سے 7ہزار 4سو 26کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا ہے۔







