متحدہ مجلسِ علماءکی مشترکہ خطبہ جمعہ کی اپیل پر کشمیر، جموں اور لداخ میں غیر معمولی ردِعمل
مشترکہ جمعہ خطبے کی کامیاب پہل پر تمام علمائ، ائمہ اور خطباءکا شکریہ
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں اپنی نوعیت کے ایک منفرد اور تاریخی اقدام کے تحت متحدہ مجلسِ علماءکی اپیل پر جمعہ 16 اکتوبر2026 کو کشمیر، جموں اور لداخ کے 70 سے زائد بڑے جمعہ اجتماعات میں ”ایمان“ کے مشترکہ موضوع پر خطبات دیے گئے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اس مربوط اقدام کا دائرہ وادی کشمیر کے تمام دس اضلاع، سرینگر، بڈگام، گاندربل، بارہمولہ، بانڈی پورہ، کپواڑہ، اسلام آباد، کولگام، پلوامہ اور شوپیان کے علاوہ جموں، راجوری، پونچھ، ادھم پور اور خطہ چناب کے اضلاع ڈوڈہ، کشتواڑ اور رام بن تک پھیلا ہوا تھا، جبکہ لداخ کے کرگل، دراس اور لہہ میں بھی اس پروگرام کے تحت خطبات دیے گئے۔
حنفی، جعفری، اہلِ حدیث، بریلوی اور دیوبندی مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علمائ، ائمہ اور خطباءاس اقدام کا حصہ بنے جو مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان اتحاد اور اجتماعی دینی ذمہ داری کا ایک اہم مظہر ہے۔ مسلکی طریقہ کار اور دینی تعبیرات میں اختلاف کے باوجود تمام شرکاءنے رضاکارانہ طور پر ایمان کے مشترکہ موضوع پر پیغام دیا، جبکہ ہر منبر کی آزادی، تقدس اور خودمختاری کو پوری طرح برقرار رکھا گیا۔
بڑی جامع مساجد، تاریخی خانقاہوں، امام بارگاہوں، مدارس اور دیگر دینی اداروں کے ذریعے مختلف اور دور دراز علاقوں میں ایمان کی اہمیت اور اس کے تحفظ کا مشترکہ پیغام پہنچایا گیا۔خطبات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایمان فرد کے کردار، خاندانی زندگی اور معاشرے کی اخلاقی بنیاد ہے اور اس کی حفاظت اور اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہنا ہر صاحبِ ایمان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ علماءنے واضح کیا کہ ایمان کا عملی اظہار دیانت داری، راست بازی، انسانیت نوازی اور حسنِ کردار میں ہونا چاہیے اور کسی دنیاوی فائدے، منصب، ذاتی مفاد یا دباو کے تحت ایمان اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
خطبات میں نئی نسل کو درپیش چیلنجوں، خصوصاً مادہ پرستی، دینی شعور میں کمی، اخلاقی انتشار اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر بھی توجہ دلائی گئی۔ والدین، اساتذہ، علماءاور دینی اداروں پر زور دیا گیا کہ وہ علم، محبت و شفقت، مثبت رہنمائی اور اپنے عملی کردار کے ذریعے نوجوانوں کے ایمان کی حفاظت اور ان کی اخلاقی تربیت میں موثر کردار ادا کریں۔
یہ اقدام متحدہ مجلسِ علماءکی 15 ستمبر کو منعقدہ علماءکانفرنس میں کیے گئے فیصلوں کا عملی تسلسل ہے، جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندوں نے اہم دینی اور سماجی مسائل کو جمعہ کے مشترکہ خطبات، ضلعی سطح کے اجتماعات اور مسلسل عوامی بیداری کے ذریعے اجتماعی طور پر اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
متحدہ مجلسِ علماءنے ایک بیان میں کہا کہ اس اپیل پر سامنے آنے والا غیر معمولی ردِعمل مسلکی، فقہی اور دینی روایات میں اختلاف کے باوجود مذہبی اداروں کے درمیان تعاون اور اشتراک کے جذبے کا قابلِ تحسین مظہر ہے، جس سے ملت کو اتحاد و یکجہتی کا ایک نہایت اہم پیغام ملا ہے۔
مجلس نے اس اقدام میں شرکت کرنے والے تمام علمائ، ائمہ، خطباءاور دینی اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس اجتماعی کوشش سے یہ مشترکہ احساس بھی نمایاں ہوا ہے کہ معاشرے کو درپیش دینی، اخلاقی اور سماجی چیلنجوں کا مقابلہ محض انفرادی اپیلوں سے نہیں بلکہ مسلسل اور اجتماعی کاوشوں سے ہی کیا جا سکتا ہے۔مجلس نے کہا کہ یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا اور 15 ستمبر2026 کی کانفرنس میں طے شدہ موضوعات کو مرحلہ وار خطبات میں اجاگر کیا جائے گا جن میں اتحادِ ا±مت، منشیات کی وبا، خودکشی اور ذہنی صحت سے متعلق مسائل، نوجوانوں کو درپیش چیلنجز، سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال، خاندانی اقدار کا استحکام اور ماحولیاتی تحفظ شامل ہیں ۔
متحدہ مجلسِ علماءنے واضح کیا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد علماءکے اجتماعی عزم کو مسلسل عوامی بیداری، بامعنی سماجی روابط اور زمینی سطح پر عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے، تاکہ مساجد، امام بارگاہیں، مدارس اور دیگر دینی ادارے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں فعال کردار ادا کر سکیں۔
متحدہ مجلسِ علماءنے جموں، کشمیر اور لداخ کے ان تمام دینی اداروں، علمائ، ائمہ اور خطباءکے تعاون اور شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پہلے مشترکہ جمعہ خطبے کی یہ کامیاب پہل مختلف خطوں اور مکاتبِ فکر کے درمیان رضاکارانہ دینی تعاون، باہمی احترام اور اجتماعی ذمہ داری کی ایک اہم مثال ہے۔







