مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارت نے سانبہ میں صنعتی استعمال کے لیے 671 کنال اراضی کی منظوری دے دی

اراضی کی منتقلی سے متنازعہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں کے خدشات بڑھ گئے

جموں : غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض انتظامیہ نے ضلع سا نبہ میں ایک صنعتی پارک کے قیام کے لیے 671 کنال اراضی مختص کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ اراضی محکمہ صنعت و تجارت کو منتقل کی جائے گی۔ یہ منصوبہ ’بھارت اودیوگک وکاس یوجنا‘ اسکیم کے تحت شروع کیا جا رہا ہے۔
بھارت کی طرف سے اراضی کی منتقلی اور صنعتی پالیسیوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مستقبل کے حوالے سے وسیع تر خدشات کو جنم دیا ہے۔ کشمیر بین الاقوامی طور پر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کی حتمی حیثیت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت طے ہونے باقی ہے ۔بھارت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے حلقوں نے اگست 2019 کے بعد آبادیاتی تبدیلیوں کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اراضی کی تخصیص، ڈومیسائل کے قواعد اور آبادکاری سے متعلق اقدامات کا مقصد مقبوضہ جموں وکشمیر میںآبادی کا تناسب تبدیل کرنا ہے۔
اراضی کی تازہ ترین منظوری سے مقامی لوگوں کے اراضی کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اس اقدام نے متنازعہ علاقے میں صنعتی ترقی کے ممکنہ اثرات سے متعلق خدشات کو بھی نمایاں کیا ہے۔
کشمیری عوام اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کا مو¿قف ہے کہ کشمیر کی حتمی حیثیت کا تعین ان کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button