جنوبی کشمیر کے اسپتال میں کینسر کے 3ہزار مریضوں کے لیے ریڈیوتھراپی کی سہولت موجود نہیں
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرکے جنوبی خطے میں واقع واحد بڑے اسپتال میںکینسر کے رجسٹرڈ 3,000 مریض ریڈیوتھراپی کی سہولت سے محروم ہیں جس کے باعث انہیں علاج کے لیے سرینگر کا سفر کرنا پڑتا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جی ایم سی اسلام آباد کا متعلقہ شعبہ اس وقت اسپتال کے اندر ایک تنگ اور عارضی جگہ پر صرف کیموتھراپی اور تکلیف کم کرنے کی طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔کینسر کے علاج کے لیے دو منزلہ مخصوص عمارت زیرِ تعمیر ہے، تاہم خصوصی آلات کے بغیر وہاں ریڈیوتھراپی کی سہولت فراہم نہیں کی جا سکتی۔
شعبہ ریڈی ایشن آنکولوجی کے سربراہ ڈاکٹر شاہد بشیر وانی نے کہاکہ جی ایم سی اسلام آباد نے ضروری آلات کی خریداری کے لیے حکومت کو پہلے ہی 40 کروڑ روپے مالیت کی تجویز پیش کر دی ہے اور یہ شعبہ اسی وقت مکمل طور پر فعال ہو سکتا ہے جب مطلوبہ آلات دستیاب ہوں۔
اس تجویز میں شعاعوں کے ذریعے علاج کے لیے لینیئر ایکسیلیریٹر، ریڈیوتھراپی کے لیے سی ٹی سمیولیٹر، پی ای ٹی اسکینر اور کینسر کے علاج کی سہولیات کو وسعت دینے کے لیے دیگر ضروری آلات شامل ہیں۔ ان آلات کی لاگت عمارت کی تعمیر کے اخراجات سے الگ ہے۔
فی الحال اسلام آباد، کولگام، پلوامہ اور شوپیاں کے علاوہ وادی چناب اور پیر پنجال کے بعض علاقوں کے مریضوں کو ریڈیوتھراپی کے لیے سرینگر میں ایس ایم ایچ ایس یا صورہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزجانا پڑتا ہے۔
ایک طبی اہلکار نے بتایاکہ ریڈیوتھراپی کے لیے اکثر چار سے پانچ ہفتوں تک ہفتے میں پانچ دن علاج کروانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے بار بار سفر کرنا مہنگا اور جسمانی طور پر انتہائی تھکا دینے والا عمل بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے مریضوں کے لیے اس بوجھ کو مسلسل برداشت کرنا مشکل ہے۔
طبی ماہرین کے اندازے کے مطابق کینسر کے 60 سے 65 فیصد مریضوں کو علاج کے کسی نہ کسی مرحلے پر ریڈیوتھراپی کی ضرورت ہوتی ہے۔








