بھارت میں فوجی بھرتیوں اور دفاعی خریداری کے اسکینڈلزسے ادارہ جاتی بدعنوانی بے نقاب
نئی دہلی: بھارت میں بھرتیوں کے دوران بار بار سامنے آنے والے فراڈ، جعلی اسناد، رشوت ستانی کے اسکینڈلز اور دفاعی خریداری سے متعلق تنازعات سنگین ادارہ جاتی کمزوریوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ اسکینڈلز پیشہ ورانہ فوجی مہارت، شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر انتخاب کے حوالے سے نئی دہلی کے دعوو¿ں کو نفی کرتے ہیں۔بھارتی پیراملٹری بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے تقریباً 400 ٹریڈز مین اہلکاروں کو برطرف کر دیا گیا۔ ان میں باورچی، پانی لانے والے اور ویٹر شامل تھے۔ ان کے نیشنل اسکلز کوالیفیکیشنز فریم ورک (این ایس کیو ایف) لیول ون کے سرٹیفکیٹس جعلی یا غیر معتبر پائے گئے۔ان اہلکاروں کو 2023-24 کے دوران روزگار میلے کے ذریعے بھرتی کیا گیا تھا۔ برطرفی سے قبل وہ ایک سے دو سال تک خدمات انجام دے چکے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ان میں سے بعض اہلکاروں نے مئی 2025 میں آپریشن سندور کے دوران بھی فرائض انجام دیے تھے۔ جموں کے آر ایس پورہ سے تعلق رکھنے والے کانسٹیبل گوپی ناتھ گھوش بھی ان میں شامل تھے۔ برطرف اہلکاروں کا دعویٰ تھا کہ وہ سائبر فراڈ کا شکار ہوئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حقِ معلومات (آر ٹی آئی) کے تحت موصول ہونے والے ایک جواب میں انکشاف کیا گیا کہ 2015 سے 2023 کے درمیان اسکل انڈیا ڈیجیٹل ہب (ایس آئی ڈی ایچ) کے کوئی سرٹیفکیٹس جاری نہیں کیے گئے تھے۔ اس سلسلے میں جھارکھنڈ کے ضلع کوڈرما میں ایک گرفتاری کی اطلاع بھی سامنے آئی۔
متاثرہ اہلکاروں نے نئی دہلی کے سی جی او کمپلیکس میں احتجاج کیا۔ انہوں نے بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل پروین کمار، انسپکٹر جنرل مکرند دیوسکر اور وزیرِ اعظم نریندر مودی سے انصاف کا مطالبہ کیا۔
اکتوبر 2026 تک ان کے معاملے کا کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا تھا۔یہ معاملہ اسناد کی تصدیق کے طریقہ کار اور انتظامی ذمہ داری کے حوالے سے سوالات کھڑے کرتا ہے۔
بھارتی فوج نے 2025-26 کے دوران بھرتی کے امیدواروں کو فراڈ کے مختلف طریقوں سے خبردار کیا۔ ان میں جعلی بھرتی ریلیاں، فٹنس ٹیسٹ کی جعلی پرچیاں، فوجی اہلکاروں کا روپ دھارنے والے افراد اور انتخاب کی یقینی ضمانت دینے کے جھوٹے وعدے شامل ہیں۔
اتر پردیش کے شہر بریلی میں ستمبر 2026 کے دوران پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان کی شناخت پردیپ کمار شرما، وشال یادو، راج ویر عرف کیلاش، دھرمیندر سنگھ اور نور احمد کے ناموں سے ہوئی۔ ان پر اگنی ویر بھرتی کے لیے مبینہ طور پر سہولت کاری کا الزام تھا۔ ان کے قبضے سے جعلی دستاویزات برآمد کی گئیں۔
مدھیہ پردیش کے شہر گوالیار میں اکتوبر 2026 کے دوران اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے عمر کی مقررہ حد سے تجاوز کر جانے والے 13 امیدوار پکڑے گئے۔ ان پر جعلی مارک شیٹس اور آدھار دستاویزات استعمال کرنے کا الزام تھا۔
مغربی بنگال میں مرشدآباد کے رہائشی ترون داس کو اکتوبر 2026 میں گرفتار کیا گیا۔ اس پر پیرا اسپیشل فورسز اور ملٹری انٹیلی جنس کے لیفٹیننٹ کرنل کا روپ دھارنے کا الزام تھا۔ اس کے قبضے سے فوجی وردی، جعلی شناختی کارڈز اور واکی ٹاکیز برآمد کیے گئے۔
اتراکھنڈ میں بھی 2024 سے 2026 کے درمیان ایسے متعدد واقعات سامنے آئے۔
بنگلورو میں ایک مبینہ گروہ نے فوج میں بھرتی کے جعلی کال آرڈرز کے ذریعے ایک سابق فوجی اور ملازمت کے 10 امیدواروں سے 55.7 لاکھ روپے ہتھیا لیے۔
ایک علیحدہ معاملے میں 2020 سے 2022 کے دوران سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے ایک کیس درج کیا تھا جس میں سپاہی ببلو چوہان، کاریگر آکاش اور دیگر افرادملوث تھے۔ یہ 1.43 کروڑ روپے کے ایک مبینہ فراڈ کا معاملہ تھا، جس میں بھارتی فوج، ٹیریٹوریل آرمی، آسام رائفلز اور فوڈ کارپوریشن آف انڈیا میں ملازمتیں دلانے کا وعدہ کیا جاتا تھا۔
زیادہ تشویش ناک معاملہ بھارتی فوج کے اپنے افسران اور اہلکاروں کے خلاف سامنے آنے والے الزامات ہیں۔
کپور تھلہ کے سروس سلیکشن سینٹر میں 2021 میں تحقیقات شروع ہوئی۔ 2026 میں ایک میجر جنرل اور تقریباً 20 دیگر افسران کے خلاف کورٹ مارشل کے لیے کارروائی کی گئی۔ اس کیس میں 50 ہزار سے 10 لاکھ روپے تک رشوت لینے کے الزامات شامل تھے۔الزام تھا کہ طبی معائنے میں نااہل قرار دیے گئے امیدواروں کو ریویو میڈیکل بورڈز کے ذریعے اہل قرار دلانے کے لیے رشوت دی اور لی گئی۔سی بی آئی کی ایف آئی آر میں 23 افراد کو نامزد کیا گیا، جبکہ 30 مقامات پر چھاپے مارے گئے۔
2026 کے ایک اور کیس میں الیکٹریکل اینڈ مکینیکل انجینئرز (ای ایم ای) کے ایک صوبیدار کو جنرل کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس پر شہریوں سے تقریباً 51.44 لاکھ روپے کا فراڈ کرنے کا الزام تھا۔
2025 میں آرمی میڈیکل کور کے ایک صوبیدار کو آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمے میں سات سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی گئی اور ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔2026 میں آرمی میڈیکل کور کے ایک میجر جنرل کو بھی قصوروار قرار دیا گیا۔ اس مقدمے کا تعلق 2018 سے 2020 کے درمیان طبی سامان کی خریداری اور ترسیل میں تقریباً 11 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں سے تھا۔
دفاعی خریداری کے معاملات بھی جانچ پڑتال کی زد میں آ گئے۔ سی بی آئی نے اکتوبر 2026 میں منیشنز انڈیا لمیٹڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انیل کمار اور ایس ایم پی پی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر آشیش کنسال کو گرفتار کیا۔یہ کیس گولہ بارود کی فراہمی کے تقریباً 500 کروڑ روپے کے ایک معاہدے میں رشوت ستانی اور حساس معلومات افشا کرنے سے متعلق تھا۔ رپورٹس کے مطابق تفتیش کاروں نے تقریباً 2.23 کروڑ روپے نقد بھی برآمد کیے۔ اس معاملے نے دفاعی معاہدوں میں دیانت داری اور خفیہ معلومات کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا۔
مجموعی طور پر یہ تمام واقعات ایک تشویش ناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ بھارت کی فوجی طاقت کے بارے میں بڑے بڑے دعوے بھرتیوں میں تصدیق کے نظام کی ناکامیوں، اندرونی نظم و ضبط کی خلاف ورزیوں اور دفاعی خریداری کی نگرانی میں خامیوں سے متصادم ہیں۔
نئی دہلی کو وضاحت کرنی چاہیے کہ جعل سازی کرنے والے گروہ بار بار فوج میں بھرتی کے خواہش مند امیدواروں کا استحصال کیسے کرتے ہیں۔ اسے یہ بھی بتانا چاہیے کہ حاضر سروس اہلکاروں کو سنگین بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کیوں کرنا پڑتا ہے اور گولہ بارود کی حساس خریداری کے معاہدے رشوت ستانی کی تحقیقات کی زد میں کیسے آتے ہیں۔
فراڈ میں ملوث بی ایس ایف اہلکاروں کی برطرفی اور اعلیٰ فوجی افسران کے خلاف الزامات سے احتساب کے دوہرے معیار اور ادارہ جاتی تحفظ کے مو¿ثر ہونے پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
بھارت اس وقت تک خود کو پیشہ ورانہ فوجی مہارت کا ماڈل قرار نہیں دے سکتا جب تک فوجی بھرتیوں میں فراڈ، رشوت ستانی، جعلی اسناد اور دفاعی خریداری کے اسکینڈلز سامنے آتے رہیں۔







