مقبوضہ جموں و کشمیر

محمود ساغر کی عالمی رہنمائوں سے تنازعہ کشمیر کے حل میں مدد کی اپیل


اسلام آباد 31مارچ (کے ایم ایس)
کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے رہنماء محمود احمد ساغر نے عالمی رہنمائوں پر زوردیا ہے کہ وہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے میں مدد کریں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محمود احمد ساغر نے سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے رہنمائوں کے نام ایک خط میں انہیں بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں کشمیری نظربندوں کی حالت زار اور اختلاف رائے کے جمہوری حق کو دبانے کیلئے بھارت کی ظالمانہ پالیسیوں کے بارے میں آگاہ کیا ہے ۔ خط میں بھارتی حکومت کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاگیا ہے کہ جموں وکشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کردیاگیا ہے جہاں پرامن اجتماع کا حق، اظہار رائے کی آزادی اور پرامن احتجاج جیسے بنیادی حقوق پر قدغن عائد ہے۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 سے بھارتی حکومت نے ہزاروں کشمیریوں کو جھوٹے مقدمات کے تحت گرفتارکررکھا ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، مسرت عالم بٹ، آسیہ اندرابی اور نعیم احمد خان بدنام زمانہ کالے قوانین کے تحت غیر قانونی طورپر نظربند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق گروپوں کو ان کے سرگرمیوںاور اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کی وجہ سے انتقانی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب نہ کرسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی قابض انتظامیہ کی طرف سے کشمیری سول سوسائٹی اور سیاسی کارکنوں کی جبری گرفتاریاں مقبوضہ کشمیرمیں اختلاف رائے کے جمہوری حق کو دبانے کے بھارتی حکومت کی جابرانہ پابندیوں کی مہم کا واضح ثبوت ہے ۔ محمود احمد ساغر نے واضح کیاکہ بھارتی حکومت کشمیر میں قبرستان کی خاموشی اوراختلاف رائے کی ہر آواز کو دبانے کیلئے عدلیہ اور دیگر جابرانہ ریاستی مشینری استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حال ہی میں ایک بھارتی عدالت نے شبیر احمد شاہ اور دیگر حریت رہنمائوں کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت فردجرم عائد کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ انہوں نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بندسینئر رہنما شبیر احمد شاہ کی حالت زار کواجاگر کرتے ہوئے کہاکہ شبیر شاہ متعددعارضوں میں مبتلا ہیں اور جیل میںعلاج معالجے کی مناسب سہولت فراہم نہ کئے جانے کی وجہ سے ان کی صحت تیزی سے گر رہی ہے ۔انہوں نے عالمی رہنمائوں سے اپیل کی کہ وہ شبیرشاہ اور دیگر کشمیری سیاسی نظربندوں کی جلد رہائی کے لیے بھارت پر دبائو بڑھائیں۔او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کے نام ایک الگ خط میں محمود احمد ساغر نے کشمیریوں کے نصب العین اور انکی اپنے حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد کی حمایت کرنے اسلامی تعاون تنظیم کا شکریہ ادا کیا۔

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button