کٹھوعہ میں تین افراد کے قتل اورگلمرگ میں فحش فیشن شو کے خلاف اسمبلی میں احتجاج

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں اس وقت شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب اراکین نے کٹھوعہ میں حالیہ ہلاکتوں اور گلمرگ میں متنازعہ فیشن شو کے انعقاد پرشدید احتجاج کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بی جے پی ارکان نے کٹھوعہ ہلاکتوںکا مختصرا ًذکر کیا اور وقفہ سوالات کو جاری رکھنے پر اصرار کیاجس پر نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور آزاد ارکان نے شدید اعتراض کیا۔ انہوں نے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کی حکومت علاقے میں امن و امان کو کنٹرول کرتی ہے اور اسے ہلاکتوں کا جواب دینا چاہیے۔تین لاپتہ افراد کی لاشیں جنہیں آخری بار 5مارچ کو بلاور میں دیکھا گیا تھا، ہفتے کو کٹھوعہ میں ایک پہاڑی علاقے سے برآمد ہوئی تھیں۔ارکان اسمبلی نے رمضان کے مقدس مہینے کے دوران گلمرگ میں ہونے والے فحش فیشن شو کی بھی مذمت کی اور اسے عوامی جذبات کی توہین قرار دیا۔ ایوان میں 25منٹ تک ہنگامہ آرائی جاری رہی اور اسپیکر عبدالرحیم راتھر کو نظم و ضبط کی بحالی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔







