انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیریوں پر بڑھتے ہوئے ظلم وستم کیخلاف آواز بلند کریں، میر واعظ
نظربندوں کی رہائی کا مطالبہ

سرینگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں عوامی مجلس عمل کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے انسانی حقوق کی تنظیموں، دانشوروں اور بھارت کے باضمیر شہریوں سے اپیل کی کہ وہ کشمیریوں کے خلاف بڑھتے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کریں اور مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق میر واعظ عمر فاروق نے آج سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نام جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے عالی کدل سرینگر کے 30 سالہ نوجوان زبیر احمد بٹ کے بہیمانہ قتل پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔ زیبر احمد کی لاش چند روز قبل بھارتی دارلحکومت نئی دلی کے ایک پارک سے پر اسرار حالت میں برآمد ہوئی ہے ۔ وہ روز گار کے سلسلے میں دلی میں تھا ۔ نوجوان کے اہلخانہ نے کہا کہ اسے دلی پولیس نے تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کیا ہے۔میر واعظ نے کہا کہ زبیر کا قتل انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس دلدوز واقعے نے بھارت میں مقیم کشمیریوںکی سلامتی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے بھارت بھر میں موجود ہزاروں کشمیری طلبہ، تاجروں اور مزدوروں کے دلوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس مزید گہرا کر دیا ہے ۔میرواعظ نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد کشمیریوں کو بھارت میں سخت ہراساں کیا گیا ،تشددکانشانہ بنایا گیا اور واپس کشمیر لوٹنے پرمجبور کیا گیا جو انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے بھارتی حکومت زور دیا کہ وہ اپنی آئینی و اخلاقی ذمہ داری پورا کرے اور کشمیریوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔
میرواعظ نے جیلوںمیںغیر قانونی طورپر نظربند کشمیریوںکی حالت زار پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ۔ انہوںنے کہا کہ جموں و کشمیر کے ہزاروں ایسے خاندان ہیں جن کے لیے عید خوشیاںنہیں بلکہ غم اور جدائی کا کرب لے کر آتی ہے۔انہوںنے کہا کہ ان خاندانوںکے پیارے برسوں سے جیلوں میں قید ہیں۔ انہوںنے بھارتی حکومت سے اپیل کی کہ وہ تمام نظربندوںکوعید کے موقع پر خیرسگالی کے جذبے کے تحت رہا کرے۔
دریں میر واعظ نمازجمعہ کے بعد عالی کدل میں زبیر احمد بٹ کے گھر گئے اور غمزدہ کے ساتھ اظہارتعزیت کیا ۔KMS-13/M






