بھارت:پے در پے فضائی حادثات نے مودی حکومت کے تعمیر و ترقی کے دعوﺅں کی قلعی کھول دی
نئی دہلی:بھارت میں حالیہ مہینوں میںپے در پے فضائی حادثات نے مودی حکومت کے تعمیر وترقی کے دعوﺅں کی قلعی کھول دی ہے اور ہوابازی کی پالیسی میں سنگین خامیوں کو بے نقاب کردیا ہے ۔کشمیر میڈسروس کے مطابق ریاست اتراکھنڈ میں ہندو یاتریوں کو لے جانے والا ایک ہیلی کاپٹر آج علی الصبح کیدارناتھ مندر کے قریب گر کر تباہ ہوگیا جس میں سوار تمام سات افراد ہلاک ہوگئے۔ کیدارناتھ سے گپت کاشی جانے والا بیل 407 ہیلی کاپٹر گوری کنڈ کے جنگلات میں گر کر تباہ ہوگیا جس میں ایک بچے سمیت سات افراد ہلاک ہوگئے۔ہیلی کاپٹر کو دھندکیوجہ سے کم حد نگاہ کے باوجود پرواز کے لیے کلیئر کر دیا گیاتھاررواں ماہ کی بارہ تاریخ کو: ایئر انڈیا کی فلائٹ AI-171 احمد آباد کے قریب گر کر تباہ ہو گئی اور 274 ہلاکتیں ہوئیں ابتدائی رپورٹوں میں انجن کی خرابی، اے ٹی سی کی لاپرواہی اور بروقت ہنگامی ردعمل کی کمی کی نشاندہی کی گئی۔
4جون کو اروناچل پردیش میں HAL Dornier 228 طیارہ گرکر تباہ ہوا۔ اس حادثے میں چھ لوگ مارے گئے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا کہ طیارے کے دونوں انجن جواب دے گئے تھے۔23 مئی کو ممبئی سے اڑان بھرنے والا ایک چارٹرڈ طیارہ پرواز کے کچھ ہی لمحوں بعد نوی ممبئی میں کریش کر گیا۔حاثے میں تین لوگوں کی موت ہوگئی۔تحقیقات میں اوور لوڈنگ اور عملے کی غفلت کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔
10 مئی کو سونبھدر اتر پردیش میں ٹورزم ہیلی کاپٹر پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ۔ پانچ افراد ہلاک ہوگئے ۔ وجوہات میں غلط کیلئرنس اور پائلٹ کی ناقص تربیت شامل تھا۔صرف چھ ہفتوں میں بھارت نے پانچ سنگین فضائی حادثات دیکھے، مگر مودی حکومت کی جانب سے کوئی وسیع پالیسی نظرثانی، قومی سطح پر احتساب یا سخت اصلاحات نہیں کی گئیں۔بھارتی ہوا بازی کی نگران اتھارٹی ڈی جی سی اے کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق: 67% چھوٹے ایوی ایشن آپریٹرز حفاظتی آڈٹ میں ناکام رہے 42% طیاروں کی مینٹیننس رپورٹس میں جعل سازی پائی گئی ۔مودی حکومت کی توجہ صرف ایئرپورٹس کی ریکارڈ تعداد میں تعمیر، پرائیویٹائزیشن اور داخلی پروازوں کی گنتی بڑھانے پر رہا جب کہ حفاظتی آڈٹ، کریو ٹریننگ، اور فلائٹ ریگولیشن کو مسلسل نظر انداز کیا گیا۔ہمالیائی علاقوں میں پائلٹس محدود تربیت کے ساتھ پیچیدہ فضائی راستوں پر پرواز کرتے ہیں، اور کئی ہیلی کاپٹر اور طیارے پرانی عمر کے باوجود سروس میں رکھے گئے ہیں۔عالمی ہوا بازی تنظیموں (IATA، ICAO) کی حالیہ رپورٹس بھارت کو "ہائی رسک زون” قرار دے چکی ہیں مگر حکومت نے صرف رسمی بیانات پر اکتفا کیا۔ 72 گھنٹوں میں دو بڑے حادثے ، احمد آباد حادثہ۔ کیدارناتھ ہیلی کری کے باوجود مودی حکومت خاموشی ناقابل فہم ہے۔مختصر یہ کہ بھارتیوں کیلئے فضائی سفر ایک خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے اور جب تک مودی حکومت علامتی فتوحات، تعمیر وترقی کے کھوکھلے دعوﺅں سے باہر آکرموثر ہوائی اصلاحات نہیں کرتی ، کروڑوں لوگوں کی جانیں خطرے میں رہیں گی۔KMS-10/M







