سندھ طاس معاہدے کو کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیںکرسکتا : ترجمان فتر خارجہ

اسلام آباد:دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کوئی سیاسی مفاہمت نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو عالمی بینک کی ثالثی میں طے پایاہے اورمعاہدے کے مطابق کسی بھی فریق کو اسے یکطرفہ طور پر معطل یا ختم کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ بھارت کو فوری طور پر اپنی یکطرفہ اور غیر قانونی پوزیشن واپس لینا چاہیے اور سندھ طاس معاہدے کو مکمل اور بلا روک ٹوک نافذ کرنا چاہیے۔ بھارتی وزیر داخلہ کے سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہ ہوسکنے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ یہ بیان بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ترجمان نے کہا کہ بھارت کا اس معاہدے کو معطل کرنے کا یکطرفہ اور غیرقانونی اعلان نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ خود اس معاہدے اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کے منافی بھی ہے۔ترجمان نے کہا کہ اس قسم کا رویہ نہایت خطرناک اور غیر ذمہ داری کی مثال ہے جو بین الاقوامی معاہدوں کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور ایسے ریاستی کردار پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے جو اپنے قانونی فرائض کی اعلانیہ نفی کرتا ہو۔ترجمان نے کہا کہ یہ طرزِ عمل علاقائی امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پانی کو سیاسی مقاصد کے لیے ہتھیار بنانا غیر ذمہ دارانہ ہے اور ریاستوں کے ذمہ دارانہ رویے کے قائم شدہ اصولوں کے خلاف ہے۔ترجمان نے کہا کہ بھارت کو فوری طور پر اپنی یکطرفہ اور غیر قانونی پوزیشن واپس لینا چاہیے اور سندھ طاس معاہدے کو مکمل اور بلا روک ٹوک نافذ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے حصے کے طور پر اس معاہدے کے لیے مضبوطی سے پرعزم ہے اور اپنے جائز حقوق اور اختیارات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے اور بھارت سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ اس معاہدے کی روح اور متن کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔





