مقبوضہ جموں و کشمیر

جنیوا: ”یو این ایچ سی آر“کی بھارت میں جاری مسماری مہم کی مذمت

جنیوا: اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آر سی) نے بھارت میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے، ،جبری بے دخلی اور مکانات کی مسماری کی مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جینوا میں جاری اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 59 ویں اجلاس کے دوران ہائی کمشنر کی سالانہ رپورٹ جاری کی گئی ۔ 23جون کو جاری کی جانے والی رپورٹ میں بھارتی حکومت کو ایک سخت انتباہ جاری کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ وہ کم آمدنی والے گھرانوں، اقلیتوں اور تارکین وطن کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے گھروں کی مسماری کے بہیمانہ عمل کو فوری طور پر بند کرے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چار آزاد ماہرین بالاکرشنن راجگوپال، نازیلا گھانا، نکولس لیورات اور گیہاد ماڈی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں گھروں کی مسماری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ مسماری مہم کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجودیہ عمل نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں تیزی آرہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم کمیونٹی کو غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ اس طرح کی مسماری صرف غیر قانونی ہی نہیں بلکہ امتیازی بھی ہے۔
رپورٹ کے مطابق انہدام کی اس امتیازی مہم کی سب سے بڑی مثال حال ہی میں احمد آباد، گجرات میں دیکھی گئی جہاں 29 اپریل اور 21 مئی کے درمیان دس ہزار سے زائد عمارتوں ، کاروباری ڈھانچوں اور مساجد کو مسمار کیا گیا۔مسماری کا یہ عمل چندولا جھیل اور ناگا آر کے علاقوں میں کیا گیا۔ علاقے میں 29 مئی کو مزید 500 ڈھانچو کو منہدم کر دیا گیا، جس سے مزید ہزاروں لوگ بے گھر ہو گئے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے کہا کہ علاقے میں کئی دہائیوں سے مقیم ان افراد کو نہ توکوئی نوٹس دیا گیا اور نہ ہی کوئی متبادل رہائش،انہیں سڑکوں پر چھوڑ دیا گیا اور انہوں نے انتہائی بے بسی کیساتھ اپنے گھروں اور عبادت گاہوں کو بلڈوزر سے ملیا میٹ ہوتے ہوئے دیکھا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button