پاکستان نے ایک تباہ کن تنازعے کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا، روح اللہ مہدی
بی جے پی حکومت کی مسلم دشمن پالیسیوں نے بھارت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، رکن بھارتی پارلیمنٹ
سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور سری نگر سے بھارتی پارلیمنٹ کے رکن آغا روح اللہ مہدی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق روح اللہ مہدی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ جنگ بندی کو آسان بنانے میں پاکستان کی کوششوں سے ایک ممکنہ تباہ کن تنازعہ کو روکنے میں مدد ملی جو پورے خطے اور دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا تھا۔ انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کا ایک ٹویٹ شیئر کیا، جس میں کہا گیا”میں نے آج سہ پہر ایران کے صدر مسعود پیزشکیان کے ساتھ اہم بات چیت کی، میں نے امن مذاکرات کی میزبانی کی پاکستان کی پیشکش کو قبول کرنے پر ایرانی قیادت کی دانشمندی کی تعریف کی۔“
مہدی نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو کڑی تنقید کا نشان بناتے ہوئے کہا کہ علاقائی بحرانوں کے وقت ایسے کردار اور بیانات کی بھارت سے توقع کی جاتی تھی لیکن بی جے پی حکومت کی مسلم دشمن پالیسیوں نے نہ صرف ملک کے ملکی سیاسی اور سماجی تانے بانے بلکہ علاقائی اور عالمی سطح پر بھارتی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے ایران-امریکہ تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے نے کہا کہ امریکہ بالآخر جنگ بندی پر رضامند ہونے پر مجبور ہوا۔ یہ نہ صرف ایران کی فتح ہے بلکہ "خدا پر ایمان اور بھروسے کی بھی فتح ہے جس نے ایران کو ثابت قدم رہنے میں مدد دی۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے تاہم ایران نے جارحیت کے مقابلے میں عزم وہمت کا ایک بے مثال مظاہرہ کیا۔آغا روح اللہ نے کہا کہ رہبر اعلیٰ کی شہادت کے بعد پوری وادی کشمیر میں احتجاجی مظاہرے اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف بھر پور غم وغصے کا اظہار کیاگیاجس کی پاداش میں قابض حکام نے مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کیے اور بیسیوں نوجوانوں کو حراست میں لیا ۔ انہوں نے تمام گرفتار افراد کی فوری رہائی اور ان کے خلاف تمام مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔






