لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا پہلگام واقعے میں سکیورٹی ناکامی کی ذمہ داری تاخیر سے قبول کر کے کسے بچارہے ہیں
کانگریس کی منوج سنہا پر کڑی تنقید ،بی جے پی حکومت کو جواب دینا ہو گا
نئی دلی : بھارت میں حزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگریس نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ منوج سنہا پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی ذمہ داری تاخیر سے قبول کر کے کس کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق منوج سنہا نے ایک حالیہ انٹرویو میں پہلگام واقعے میں سکیورٹی خامیوں کااعتراف کرتے ہوئے واقعے کی پوری ذمہ داری قبول کی تھی ۔ کانگریس کے میڈیا اور پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیرا نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ ایل جی منوج سنہا کی طرف سے بہت تاخیر سے حملے میں ناکامی کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے جو کہ حملے میں نشانہ بننے والے تمام سیاحوں کی توہین ہے۔ ایک اور پوسٹ میںپون کھیرا نے سوال کیاکہ لیفٹیننٹ گورنر نے اتنی دیر سے کیوں حملے میں سکیورٹی خامیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ انہوں نے سوال کیاکہ ان کا احتساب کون کرے گا ؟ کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے بھی ایک پوسٹ میں منوج سنہا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ وہ اتنی تاخیر سے اپنے جرم کا اعتراف کر کے کس کو بچا رہے ہیں ۔کانگریس پارٹی کے ایک اور رہنما مانیکم ٹیگور نے کہاہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اصل کنٹرول وزیر داخلہ امت شاہ کے پا س ہے ۔انہوں نے رواں سال 90عسکریت پسندوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیاتھا ۔ وہ اب تک کیوں خاموش ہیں ۔ انہوں نے واضح کیاکہ مودی حکومت نے اگست 2019میں دفعہ 370کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں "امن کے نئے دور” کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں ۔انہوں نے کہاکہ منوج سنہا نے اعتراف کیاہے کہ پہلگام واقعہ ایک انتہائی سخت سکیورٹی والے علاقے میں ہوا ہے۔مانیکم ٹیگور نے کہاکہ بی جے پی حکومت کو جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مودی حکومت مقبوضہ کشمیرمیں تمام تر ترقی کا کریڈٹ لیتی ہے توسکیورٹی ناکامیوں پر بھی اسے جواب دینا ہوگا۔





