مودی حکومت مخالفین ، حقوق کیلئے آواز اٹھانے والوں کو وحشیانہ ہتھکنڈوں سے دبانے کی پالیسی پر بدستور عمل پیرا
نئی دلی: خطے پر اپنی بالا دستی کے جنون میں مبتلا بھارتیہ جنتاپارٹی(بی جے پی) کی بھارتی حکومت اپنے مخالفین اور حقوق کیلئے آوازاٹھانے والوں کو وحشیانہ ہتھکنڈوں سے دبانے کی پالیسی پر بدستور عمل پیرا ہے اور وہ اپنے مذموم مقاصدکے حصول کیلئے عالمی قوانین اور اصول وضوابط کی دھجیاں اڑا رہی ہے ۔ آسام اور منی میں حقوق کا مطالبہ کرنے والوںپر حالیہ ڈورن حملے مودی حکومت کی سفاکیت اور بربریت کا واضح عکاس ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک کہلاتا ہے مگر ملک میں اقلیتیں خاص طور پر مسلمان تمام جمہوری حقو ق سے محروم ہیں ۔ شمال مشرقی ریاستوں آسام ، منی پور ، میزو رم ، ناگالینڈ او تریپورہ وغیرہ میں اپنے حقوق کیلئے لڑنے والوں کو بدترین ظلم وستم کا نشانہ بنایاجا رہا ہے اور بھارتی حکومت ان علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں میں ملوث ہے ۔ مودی حکومت نے فورسز کو حقوق کے حصول کیلئے مصروف جدوجہد لوگوں کو وحشیانہ طاقت سے دبانے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے ۔
بھارتی فوج نے 14 جولائی کو یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام ، پیپلز لبریشن آرمی آف منی پور اور ریولوشنری پیپلز فرنٹ کے کیمپس پر 150 اسرائیلی اور فرانسیسی ساختہ ڈرونز گرائے ۔ یہ حملے بھارت میانمار بین الاقوامی سرحد پر لونگوا (ناگالینڈ) اور پنگساﺅ پاس (اروناچل پردیش) سے میانمار کے سگینگ علاقے میں کئے گئے۔تین مرتبہ کیے جانے والوں حملوں میں 150ڈورن مارے گئے۔
پہلے حملے میں یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام کے سینئر رہنما نایان ہلاک ہو گئے جبکہ 19 سے زائد لوگ شدید زخمی ہو گئے۔ نایان کی آخری رسومات کی ادائیگی کے وقت دوسرا حملہ کیا گیا جس میں تنظیم کے دیگر مرکزی رہنما رہنما گنیش اور پردیپ آسوم ہلاک ہو گئے۔
گوکہ بھارتی فوج نے ان حملوں سے لاتعلقی ظاہر کرنے کی کوشش کی مگر یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام کا کہنا ہے کہ ارونا چل پردیش کے عوام ان تینوں حملوں کے چشم دید گواہ ہیں۔
علیحدگی پسند تنظیم یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام (ا±لفا) نے بھی ایک بیان میں کہاہے کہ بھارتی فوج نے سرحد پار میانمار میں تنظیم کے کیمپ پر ڈرون حملے کیے ہیں اور 3 کمانڈروں اور 20 ارکان کو ہلاک کر دیا۔آسام کی آزادی کیلئے جدوجہد کرنے والی تنظیم الفا نے کہا کہ بھارتی فوج نے حملوں میں اسرائیلی ساختہ ڈیڑھ سو ڈرون استعمال کیے۔تنظیم نے مزید کہا کہ بھارتی فوج نے یہ حملے ریاست اروناچل پردیش کے کیمپوں سے کیے۔ا±لفا نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارتی فوج کے وحشیانہ حملوں کا بدلہ ضرور لے گی۔
ریاست منی پور میں 3مئی 2023سے میتی (ہندو) اور کوکی(عیسائی) قبائل کے درمیان سخت کشیدگی چل رہی ہے اور فسادات میں اب تک ڈھائی سو سے زائد لوگ مارے جا چکے ہیں ، ساٹھ ہزار سے زائد افرادبے گھر ہو چکے ہیں ۔ ریاست میں بدامنی اور شورش تھمنے کا نام نہیں لے رہی ۔مودی حکومت نے فورسز کو کو کی (عیسائی ) برادری کووحشیانہ طاقت سے کچلنے کی کھی چھٹی دے رکھی ہے ، کوکی مردوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کیا جا رہا ہے جبکہ انکی خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیاجا رہا ہے۔ کوکیوں کو زندہ رہنے کے بنیادی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے۔مودی حکومت میتی (ہندو) قبیلے کی مکمل پشت پناہی کر رہی ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنینشل نے منی پور میں فسادات کے دو سال مکمل ہونے پر مئی 2025 میں ایک خصوصی رپورٹ جاری کی ۔ رپورٹ میں کہاگیا” بھارتی حکومت نے منی پور میں نسلی تشدد کے دو سال بعد بھی بے گھرہونے والوں کی انسانی ضروریات کو پورا کرنے اور ان کی بحالی کے لیے کوئی جامع پالیسی نہیں اپنائی جو انتہائی افسوسناک ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ناقص پالیسی کے سبب دسیوں ہزار افراد غیر انسانی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور صوتحال میں تبدیلی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بھارتی وزارت داخلہ نے پہلے غلط بیانی کی کہ منی پور میں بے گھر افراد کی بحالی کیلئے 2 کروڑ 17 لاکھ روپے فراہم کئے گئے ہیں جبکہ بعداز اں خود وزیر داخلہ امت شاہ نے اعتراف کیا کہ تاحال اس رقم کی منظوری نہیں دی گئی۔







