بھارت

بھارت میں اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری

مودی حکومت مساجد پر حملوں کے ذریعے فرقہ وارانہ ایجنڈا آگے بڑھارہی ہے

نئی دلی: بھارت میں اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں ۔ ہندوتوامودی حکومت کرناٹک میں مساجد پر حملوں کے ذریعے اپنے مذموم فرقہ وارانہ ایجنڈے کو آگے بڑھارہی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کرناٹک میں ضلع مندیا کے علاقے مدور میں بی جے پی کی پشت میں ہندو انتہا پسند گروپوں نے گنیش وسرجن جلوس کے دوران مسجد پر حملہ کیا۔عینی شاہدین کے مطابق جلوس میں شریک ہندو انتہاپسندوں نے مسجد کے قریب پہنچتے ہی اچانک پتھرائو شروع کردیا اور اشتعال انگیز نعرے لگائے ۔ بھارتی ریاست اقلیتوں کے خلاف منظم تشدد روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ۔ مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت جان بوجھ کر ہندو انتہا پسند گروہوں کے تشدد کو نظر انداز کررہی ہے۔ اس واقعے سے نہ صرف مودی حکومت کی اقلیت دشمن پالیسی ظاہر ہوتی ہے بلکہ بھارت میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی اور جمہوری ملک ہونے کے اس کے دعوئوں پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کا بھی واضح ثبوت ہے کہ بی جے پی کی پشت پناہی میں ہندو شدت پسند گروہ منظم انداز میں فرقہ وارانہ تصادم کو بڑھکا رہے ہیں۔یہ منظرنامہ گزشتہ برس کے ناگامنگلا فسادات کی یاد دلاتا ہے، جب تلواروں اور پٹرول بموں سے لیس ہندوتوا بلوائیوں نے مسلم آبادیوں کو نشانہ بنایاتھا۔ بھارت میں "ہندو فخر”کے نام پر سیاسی حکمت عملی کے تحت تشدد کو بڑھاوا دیا جاتا ہے۔بی جے پی رہنمائوں، بشمول صوبائی صدر بی وائی وجییندر، نے بارہا ایسے واقعات کو سیاسی ہتھیار بنایا ہے۔ وہ اقلیتوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اوری جے پی کارکنان کے ملوث ہونے پر پردہ ڈالتے ہیں۔ پولیس کو بھی انتہا پسند ہندوئوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سے روک دیا جاتا ہے ۔بھارت میں اقلیتوں خصوصا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے ان واقعات سے مودی حکومت کے سیکولرازم کے دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں ۔ درحقیقت بی جے پی کا اصل ایجنڈا فرقہ واریت کو فروغ دینا ہے، جو ہندو انتہا پسندی کو اقلیتوں پر مظالم ڈھانے کا لائسنس فراہم کرتی ہے ۔ اس خطرناک روش کے سدباب کے لیے غیرجانبدار قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عالمی برادری کی جانب سے سخت سیاسی احتساب کی فوری ضرورت ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button