راولاکوٹ میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو تنازعہ کشمیر کے بارے میں تفصیلی بریفنگ
راولاکوٹ: یوم الحاق پاکستان کے موقع پر راولاکوٹ آزادکشمیر میں سرکردہ شخصیات پر مشتمل ایک وفد نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو تنازعہ کشمیر کے تاریخی پس منظراورموجودہ صورتحال پرتفصیلی بریفنگ دی ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وفد میںایڈووکیٹ سردار بلال شکیل، سردار حفیظ خان، سردار صدام نسیم، سردار افتخار جمشید، ایڈووکیٹ عاطب ارشاد، ایڈووکیٹ زریاب اعجاز، ناصر ارباب اور دیگر شامل تھے۔وفد نے 19 جولائی کی اہمیت کے حوالے سے ایک یادداشت بھی پیش کی۔اس موقع پر سردار بلال شکیل اور دیگر نے تنازعہ کشمیر کے تاریخی پس منظر پر مدلل گفتگو کرتے ہوئے حق خودارادیت اور پاکستان کے ساتھ کشمیر کے الحاق کے مطالبے کو اجاگر کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے پورے خطے میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کرائے تاکہ کشمیری عوام اپنی مرضی کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر ایک آزاد خطہ ہے، اس کا اپنا صدر، وزیر اعظم اور عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ مکمل سیاسی اور مذہبی آزادی ہے۔ دوسری جانب بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک جیل میں تبدیل کر رکھا ہے جہاں لوگوں کو بنیادی آزادیوں سے محروم رکھا گیا ہے اور مقامی آبادی خوف و دہشت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ انہوں نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کے نمائندوں کی موجودگی اور خطے میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے مستقل دفتر کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تنازعہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجودہے اور یہ ایک حل طلب مسئلہ ہے جس کی بین الاقوامی اہمیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔وفد نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے بنیادی حق یعنی ووٹ دینے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کا احترام کرے ۔







