مودی کا بھارت فسطائیت کا عملی نمونہ بن چکا ہے، ہندوتوا غنڈوں سے فورسز اہلکاربھی محفوظ نہیں

نئی دہلی: نریندر مودی کا بھارت اب فسطائیت کا عملی نمونہ بن چکا ہے جہاںبھارتی فورسزکے اہلکار بھی ہندوتوا غنڈوں کی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہیں۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مودی حکومت کا ہندوتوا نظریہ اب محض سازشی جنون نہیں بلکہ جھوٹ، نفرت اور غنڈہ گردی پر مبنی سیاسی ایجنڈا بن چکا ہے۔ مودی راج میں ہندوتوا غنڈوں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے جو عوام کو ہروقت نفرت، تشدد اور بہیمانہ سلوک کا نشانہ بنارہے ہیں اوران کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔مودی حکومت کے دور میں ہندو انتہاپسندوں کے ہاتھوں نہ صرف اقلیتیں بلکہ فورسز اہلکار بھی غیر محفوظ اور بے بس ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں ریاست اتر پردیش کے شہر مرزاپور میں ہندوتوا غنڈوں نے ریلوے اسٹیشن پر بھارتی پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ایک اہلکارکو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔این ڈی ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق 19جولائی کو برہم پترا ایکسپریس کا انتظار کرتے ہوئے سی آر پی ایف اہلکار کا ہندو یاتریوں سے ٹکٹ کے معاملے پر جھگڑا ہوا اور 8سے زائد ہندو یاتریوں نے وردی میں ملبوس سی آر پی ایف اہلکار کوگھیر کر زمین پر گرا دیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی آر پی ایف اہلکار نے مزاحمت کی کوشش کی لیکن یاتریوں نے مکوں، تھپڑوں اور لاتوں سے اس کی شدید پٹائی کی۔ اس دوران پلیٹ فارم پر موجود چند افراد نے بیچ بچائو کی کوشش کی لیکن حملہ آورنہیں رکے اورسی آرپی ایف اہلکارکی خوب درگت بنائی۔ ہندو انتہا پسندوں کے ایسے اقدامات پرمودی حکومت کی مجرمانہ خاموشی بدستورجاری ہے بلکہ ان ہندوتوا دہشتگردوں کو کھلی چھوٹ اور ریاستی تحفظ حاصل ہے۔ مودی کا بھارت اب انصاف نہیں بلکہ ہندوتوا جنون کا میدانِ جنگ بن چکا ہے جہاں قانون صرف اکثریتی غنڈوں کا غلام ہے۔ ہندوتوا دہشتگرد آزادگھوم رہے ہیں اورانہیں قومی ہیرو جبکہ سچ بولنے والوں کو غدار قراردیاجارہا ہے۔








