سب کچھ لٹا کر ہوش میں آئے توکیاکیا؟ اسدالین اویسی کا عمرعبد اللہ پر طنز

نئی دہلی : غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں نافذ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ سے متعلق کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمرعبد اللہ کے بیان پرآل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے طنز کرتے ہوئے کہاہے کہ سب کچھ لٹا کر ہوش میں آئے تو کیا کیا؟ دن میں اگر چراغ جلائے تو کیا کیا؟
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق عمر عبداللہ نے ہفتے کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے منشور میں کہا تھا کہ جموں و کشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کو ہٹائیں گے اور اسے ہٹانے کے لیے ہمیں ریاست کا درجہ چاہیے۔ جس دن سے چیزیں ہماری ہوجائیں گی،میں اسمبلی اجلاس کا بھی انتظار نہیں کروں گا، ہم ایک آرڈیننس کے ذریعہ جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ کو منسوخ کر دیں گے۔اسدالدین اویسی نے عمرعبد اللہ کے اس بیان کوایکس پر دوبارہ پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ اسمگلنگ سے نپٹنے کے لیے شیخ عبد اللہ نے 1978میں پبلک سیفٹی ایکٹ نافذ کیا تھا۔انہوں نے کہاکہ فاروق عبداللہ، جی ایم شاہ، مفتی سعید، جی این آزاد، عمرعبد اللہ اور محبوبہ مفتی سمیت یہ تمام لوگ جموں و کشمیر کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں اور اگر وہ چاہتے تو پی ایس اے کو آسانی سے منسوخ کر سکتے تھے اور بے شمار مشکلات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روک سکتے تھے۔اویسی نے کہاکہ اس قانون کا تقریبا ہر منتخب وزیر اعلی اور غیر منتخب گورنر نے غلط استعمال کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ 1978سے اب تک 20,000سے زیادہ لوگوں کو بغیر کسی مجرمانہ الزامات، منصفانہ ٹرائل یہاں تک کہ مناسب اپیل کے عمل کے بغیر قید کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں کی نظربندی 7سے12سال تک بڑھا دی گئی ہے، اب اس حکومت کو پی ایس اے ہٹانے کا خیال آیا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں نافذ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کو بغیر کسی جرم یا قانونی کارروائی کے دو سال تک جیل میںنظربند رکھا جاسکتا ہے اوردو سال بعد اس میں ان گنت مرتبہ توسیع کی جاسکتی ہے۔ اس قانون کے تحت اب بھی سینکڑوں بے گناہ کشمیری نوجوان اورحریت پسند رہنما جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔






