پلوامہ: سکھ خاتو ن کی موت نے مسلمانوں کو بھی غمزدہ کر دیا
سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ضلع پلوامہ کے علاقے شادی مرگ سے تعلق رکھنے والی ایک سکھ خاتون 35 سالہ سرجیت کور کے انتقال نے جہاں اسکے اہلخانہ کو غمزدہ کر دیا ہے وہیں علاقے کے مسلمان بھی شدید رنج و غم کا شکار ہو گئے ہیں ۔
کشمیر میڈیا میڈیا سروس کے مطابق سرجیت کور کو جگر کا عارضہ لاحق تھا ۔ اسے جگر کی پیوند کاری کیلئے سرینگر کے صورہ ہسپتال میں داخل کیا گیاجہاں ڈاکٹروں نے ٹرانسپلانٹ کی لاگت کا تخمینہ 40 لاکھ روپے لگایا تھا۔ خاتون کے اہلخانہ مالی لحاظ سے اس قدر مستحکم نہیں ہیں کہ وہ یہ خطیر رقم ادا کر سکتے تھے۔لہذا انہو ں نے مالی اعانت کی اپیل کی اور اس حوالے سے سوشل میڈیا کا بھی استعمال کیا گیا۔ چار دنوں کے اندر اندر 27لاکھ سے زائد رقم جمع ہوگئی۔ مسلمانوں سمیت علاقے کی تمام کمیونٹیز نے خاتون کے علاج کیلئے دل کھول کر عطیات دیے۔ اگر چہ خاتون کی جان نہیں بچائی جاسکی تاہم یہ واقعہ علاقے میں مسلمانوں اور دیگر فرقوں کے درمیان بھائی چار ے کی ایک عظیم مثال ہے۔خاتون کے اہلخانہ نے بھر پور تعاون اور یکجہتی پر مسلم کمیونٹی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ دکانداروں ، طلباء، کسانوں اور مزدوروں نے بھی اپنی اپنی استطاعت کے مطابق دل کھول کر عطیہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بھر پور حمایت اور یکجہتی کو کبھی نہیں بھولیں گے۔
سرجیت کور کے پسماندگان میں ان کا جوان بیٹا اور شوہر رہ گئے ہیں۔ آنجہانی خاتون کی آخری رسومات پلوامہ میں ادا کی گئیں جس میں مسلمانوں نے بھی بھر پور مدد کی۔





