مقبوضہ جموں و کشمیر

دہلی ہائی کورٹ کا سزائے موت کے این آئی اے کے مطالبے پر یاسین ملک سے جواب طلب

نئی دہلی:دہلی ہائی کورٹ نے غیر قانونی طور پر نظر بند جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک سے بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی درخواست پر باضابطہ جواب طلب کیا ہے جس میں انہیں ایک جھوٹے اور من گھڑت کیس میں سزائے موت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس وویک چودھری اور جسٹس شیلندر کور پر مشتمل ڈویژن بنچ نے یاسین ملک کو چار ہفتوں میں اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا اور سماعت کی اگلی تاریخ 10نومبر مقرر کی۔این آئی اے کے وکیل ایڈوکیٹ اکشائی ملک نے 9اگست 2024کے ایک سابقہ عدالتی حکم کا حوالہ دیا جس کے تحت یاسین ملک نے اپنی نمائندگی خود کرنے اور عدالت میں ویڈیولنک کے ذریعے پیش ہونے کی حامی بھری تھی۔ بنچ نے کہا کہ یاسین ملک آج پیش نہیں ہوئے اور جیل حکام کو ہدایت کی کہ وہ اگلی سماعت پر ان کی ورچوئل موجودگی کو یقینی بنائیں۔یاسین ملک اس وقت مئی 2022میں ایک ٹرائل کورٹ کی طرف سے سنائی گئی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس کی بڑے پیمانے پرمذمت کرتے ہوئے اسے عدالتی فریب قراردیا۔اسی کیس میں مارچ 2022میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے دیگر سینئر سیاسی رہنمائوں پر فرد جرم عائد کی گئی جن میں شبیر احمد شاہ، انجینئر عبدالرشید، ظہور احمد وٹالی، شاہد الاسلام، الطاف احمد شاہ، نعیم احمد خان اور فاروق احمد ڈار شامل ہیں۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یاسین ملک کے لیے سزائے موت کا این آئی اے کا مطالبہ بھارت کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے کہ جموں و کشمیر کی حقیقی سیاسی قیادت کو جھوٹے الزامات، طویل قید اور عدالتی کارروائیوں کے ذریعے ختم کیا جائے تاکہ بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف جاری مزاحمت کو دبایا جاسکے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button