کانفرنس

"مودی 3.0 کا ایک سال: بھارت کی خارجہ پالیسی اور داخلی حکمرانی ” کے عنوان سے گول میز کانفرنس کا انعقاد

اسلام آباد:انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز اسلام آبادکے زیر اہتمام بی جے پی حکومت کی تیسری مدت کے پہلے سال کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے ایک گول میز کانفرنس کا اہتمام کیاگیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق "مودی 3.0 کا ایک سال: بھارت کی خارجہ پالیسی کے عزائم اور داخلی حکمرانی "کے عنوان سے گول میز کانفرنس میں بھارت کی سماجی-سیاسی، معاشی، فوجی اور خارجہ پالیسی کے محاذوں پرمودی حکومت کی کارکردگی پر غور کیاگیا۔ کانفرنس میں سینئر سفارتکاروں، ماہرین اقتصادیات اور علاقائی تجزیہ کاروں نے شرکت کی۔آئی ایس ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل سفیر سہیل محمود ڈاکٹر راشد ولی جنجوعہ اور سفیر رفعت مسعود نے کہاکہ مئی 2025میں پاکستان کے ساتھ حالیہ جنگ میں بھارت کی شکست کے بعد مودی حکومت کی مقبولیت میں تیزی سے کمی آئی ہے۔ان کاکہناتھاکہ رواں سال کے آغاز سے بی جے پی کو داخلی سیاسی محاذ پر نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ بھارت کو بین الاقوامی سطح پر ناکامی ہوئی ہے اوراسکی بین الاقوامی ساکھ بری حد تک متاثر ہو ئی ہے ۔ بھارتی معاشرے میں سیاسی، معاشی، نسلی اور لسانی تقسیم گہری ہوئی ہے۔ بھارت میں وقف ترمیمی بل، ہجرت کے قوانین اور بہار جیسی ریاستوں میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی سے مسلمانوں کے لیے گنجائش مزید سکڑ رہی ہے۔ مودی کے دورحکومت میں منصوبہ بندی کمیشن، الیکشن کمیشن، عدلیہ اور فوج جیسے اہم اداروں کی بد نیتی نمایاں رہی ہے۔ ماہرین نے ہندوتوا تنظیموں آر ایس ایس اور بی جے پی کے درمیان اختلافات کی بھی نشاندہی کی جن میں پارٹی صدر کی تقرری، وزیراعظم مودی کی 75سال کی عمر تک پہنچنے اور بی جے پی کے بعض حلقوں کا ناگپور سے آزادی کی خواہش شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی قیادت آر ایس ایس کے "اکھنڈ بھارت کے نظریے پر یقین رکھتی ہے اور مودی کی پاکستان کے ساتھ نفرت اور توسیع پسندانہ عزائم اسی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ بھارت میں انتخابی مہم کا مرکز صرف پاکستان دشمنی ہوتی ہے، جسے قوم پرستی بڑھانے اور ووٹ حاصل کرنے کیلئے استعمال کیاجاتا ہے ۔شرکا نے خبردار کیا کہ مودی حکومت کے دور میں مقبوضہ کشمیر کے مذہبی اور ثقافتی تشخص کو خطرہ لاحق ہے۔ پاکستان کو کشمیر کے تنازعے اور سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارت کے فیصلے پر بین الاقوامی فورمز پر آواز بلند کرنی چاہیے۔ پاکستان کو اپنے آبی ذخائر بڑھانے اور پانی کے انتظام کو بہتر بنانے پر فوری توجہ دینی چاہیے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button