مظفر آباد :”بنیان مرصوص : ایک یقین، ایک دفاع، ایک تقدیر” کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد
مظفرآباد: یونیورسٹی آف آزاد جموں وکشمیر کے جہلم ویلی کیمپس ہٹیاں بالا میں ”بنیان مرصوص: ایک یقین، ایک دفاع، ایک تقدیر” کے عنوان سے کانفرنس منعقد کی گئی ۔کانفرنس کے مقررین نے پاکستان کی عسکری حکمت عملی، قومی ہم آہنگی اور قیادت کے کردار کو جنوبی ایشیا کی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کانفرنس کا انعقاد انسٹیٹیوٹ آف ڈائیلاگ، ڈویلپمنٹ اینڈ ڈپلومیٹک سٹڈیز نے یونیورسٹی کے تعاون سے کیا، جس میں سیاست دانوں، ماہرین تعلیم، پروفیسرز، طلبہ، میڈیا نمائندگان اور دفاعی امور کے مبصرین نے شرکت کی۔مقررین نے کہا کہ مئی 2025میں پاک بھارت جنگ کے دوران پاکستان نے سیاسی، عسکری اور سفارتی سطح پر منظم اور مربوط حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق عددی برتری اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کے باوجود کامیابی کا انحصار قیادت، پیشہ ورانہ تیاری اور بروقت فیصلہ سازی پر ہوتا ہے۔پاسبانِ حریت جموں وکشمیر کے چیئرمین عزیراحمد غزالی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کے دفاعی بجٹ اور جدید جنگی سازوسامان کے مقابلے میں پاکستان نے فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی مضبوط قیادت میں محدود وسائل کے باوجود نظم و ضبط، تربیت اور عسکری مہارت کے ذریعے منہ توڑ جواب دیا۔انسٹیٹیوٹ آف ڈائیلاگ ڈیولپمنٹ اینڈ ڈپلومیٹک اسٹڈیز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ولید رسول نے کہاکہ بھارتی بیانیہ اکثر فلمی انداز اور پروپیگنڈے پر مبنی ہوتا ہے، تاہم حقیقی جنگی حالات میں عسکری منصوبہ بندی، ٹیکنالوجی کے موثر استعمال اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا اصل امتحان سامنے آتا ہے۔مہمانِ خصوصی آزاد کشمیر کے سابق چیف جسٹس سید منظور حسین گیلانی اور ڈاکٹر انعام الحق نے اپنے خطاب میں کہا کہ میدانِ جنگ میں کامیابی صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ادارہ جاتی ہم آہنگی، انسانی وسائل، حوصلے اور قیادت کی ذہانت سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بحران کے دوران فوری اور درست فیصلہ سازی کسی بھی دفاعی حکمت عملی کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ عثمان علی ہاشم اور دیگر مقررین نے کہا کہ نوجوان نسل کو معلوماتی جنگ، نفسیاتی دبائو اور دشمن کے پروپیگنڈا ہتھکنڈوں سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ قومی یکجہتی کو مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج، خصوصا فضائیہ اور زمینی افواج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی دفاع میں انکی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیاں قابلِ فخر ہیں۔مقررین نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں مسلسل کشیدگی کی بنیادی وجہ حل طلب تنازعہ کشمیر ہے۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔






