بلوچستان میں دہشتگردی کی بڑی سازش بے نقاب
سکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان کے سہولت کار ڈاکٹر عثمان کو گرفتار کر لیا
اسلام آباد:
پاکستان کی مسلح افواج ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے ۔ سکیورٹی فورسز نے فتنہ الہندوستان (بی ایل اے) کے سہولت کار ڈاکٹر عثمان قاضی کو گرفتار کرکے بلوچستان میں دہشتگردی کی ایک سنگین سازش بے نقاب کی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق قائداعظم یونیورسٹی سے ایم فل، پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والا ڈاکٹر عثمان علم کی آڑ میں دہشتگردی کے سیاہ کھیل میں ملوث تھا۔ ڈاکٹر ہیبتان عرف کالک کے ذریعے عثمان قاضی فتنہ الہندوستان سے جڑا۔ ٹیلیگرام کے ذریعے بشیر زیب سے رابطہ ہوا اور اسے "امیر”کا کوڈ نام دیا گیا۔ اس کا پہلا کام زخمی کمانڈر کی تیمارداری، پھر دہشتگردوں کو پناہ اور سکیورٹی فورسز پر حملوں کی منصوبہ بندی کرناتھا۔ فتنہ الہندوستان نے یومِ آزادی پر "ہیروف ٹو” نامی خطرناک منصوبہ تیار کیا جس میں 32خودکش بمبار اور بارود سے بھری گاڑیوں کے ذریعے ملک کے بڑے شہروں کو نشانہ بنایا جانا تھا۔ تاہم سکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کر کے یہ مذموم منصوبہ ناکام بنا دیا۔عثمان قاضی کی گرفتاری کے بعد تو سوشل میڈیا پر اسے جبری لاپتہ ظاہر کیا گیا،تاہم اس کے اعترافی بیان کی ویڈیو نے حقیقت کو بے نقاب کیا۔ ویڈیو میں اس نے حربیار مری سے رابطے، دہشتگردوں کو سہولت فراہم کرنے اور ریاست سے غداری کا اعتراف کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس انکشاف پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ دشمنوں کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔پاکستان کے نوجوانوں کو علم اور امید کی ضرورت ہے، نہ کہ دہشتگردی اور نفرت کی ۔






