بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے

اسلام آباد:
بھارت غیر قانونی طور پر اپنے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںانسانی حقوق کے عالمی قوانین اور اصول و ضوا بط کی دھجیاں اڑا رہا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت نے عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطے جموں وکشمیر پر فوجی طاقت کے بل پر قبضہ جما رکھا ہے اور وہ آزادی کے مطالبے کے پاداش میں نہتے کشمیریوں کو گزشتہ 78برس سے بدترین مظالم کا نشانہ بنا رہا ہے۔ بھارت نے 1989سے اب تک ایک لاکھ کے لگ بھگ کشمیر ی شہید جبکہ آٹھ ہزار سے زائد جبری طور پر لاپتہ کر دیے ہیں۔ بھارت جمہوری ملک ہونے کا دعوی کرتا ہے لیکن اسکے جمہوری دعوے مقبوضہ علاقے میں پوری طرح سے بے نقاب ہوچکے ہیں۔
بھارت خود تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گیا تھا اور بعد ازاں اس نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے بارے میں عالمی ادارے کی قراردادوںپر دستخط بھی کیے لیکن اب وہ ان قرار دادوں سے مکر چکا ہے۔
مودی حکومت نے اگست 2019میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت غیر قانونی اور یکطرفہ طور پر ختم کر کے کشمیریوں کے ساتھ ایک اور بڑی دھوکہ دہی کی ۔ بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت نے حریت رہنماﺅں ،کارکنوں ، وکلا ، صحافیوں ، علماء، انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کے کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیریوںکو جیلوں اور عقوبت خانوں میںڈال رکھا ہے ، اس نے اظہار رائے کی آزادی کے حق سمیت کشمیریوں کے تمام بنیادی حقوق سلب کررکھے ہیں۔
مودی حکومت کشمیری مسلمانوں کو دیوار کے ساتھ لگانے اور انکی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے ، وہ مسلم اکثریتی کشمیر کو مکمل طور پر ہندو توا کے رنگ میں رنگا چاہتی ہے ،اسکے غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل، توسیع پسندانہ عزم اور ہٹ دھرمی نے پورے خطے کا امن داﺅ پر لگا رکھا ہے ۔ عالمی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانیت کے خلاف جاری سنگین بھارتی جرائم اور عالمی قوانین کی خلاف ورز ی کانوٹس لے وہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرے جو جنوبی ایشیا میں دیر پاامن و ترقی کی راہ میں ایک بنیادی رکاوٹ ہے۔





