بھارت

دلی ہائی کورٹ نے سنٹرل انفارمیشن کمیشن کو نریندر مودی کے تعلیمی ریکارڈ کو ظاہر کرنے سے روک دیا

ڈگری کسی اجنبی کو نہیں دکھائی جاسکتی ، دلی ہائی کورٹ نے انفارمیشن کمیشن کے حکمنامے کو منسوخ کر دیا

نئی دلی: مئی میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد پاکستان کے ہاتھوں شرمناک شکست اور 50فیصد امریکی ٹیرف کے نفاذ کے بعد مودی کی بھارتی حکومت پر بڑھتی ہوئی تنقید کے دوران دلی ہائی کورٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی بی اے کی ڈگری سے متعلق تنازعہ پر سنٹرل انفارمیشن کمیشن کے 2016کے حکمنامے کومنسوخ کرتے ہوئے ان کے تعلیمی ریکارڈ کی تفصیلات منظر عام پر لانے پرپابندی عائد کر دی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہائی کورٹ کے جج جسٹس سچن دتہ کی سربراہی میں بنچ نے حق اطلاعات کے تحت دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سنٹرل انفارمیشن کمیشن کے حکم کو منسوخ کرکے دلی یونیورسٹی کی درخواست کو قبول کیا ۔ دوران سماعت سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دلی یونیورسٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے کہاتھا کہ ایک طالب علم کی ڈگری کی تفصیلات منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے،جو آج ملک کا وزیر اعظم ہے۔ انہوں نے کہاتھا کہ یونیورسٹی عدالت کو توڈگری دکھا سکتی ہے لیکن ڈگری کسی اجنبی کو نہیں دکھائی جا سکتی۔درخواست گزار کے وکیل شادان فراست نے عدالت کو بتایاکہ حق اطلاعات کے تحت دائر درخواست پر کوئی سرکاری محکمہ معلومات دینے سے انکار نہیں کر سکتا۔آر ٹی آئی کے تحت کسی طالب علم کو ڈگری دینا کوئی پرائیویٹ ایکٹ نہیں ہے بلکہ پبلک ایکٹ ہے۔ انہوں نے کہاکہ حق اطلاعات ایکٹ کے تحت دلی یونیورسٹی ایک عوامی اتھارٹی ہے۔ ایسی صورتحال میں معلومات حاصل کرنے والے شخص کی نیت کی بنیاد پر کسی کی ڈگری کے بارے میں معلومات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔دلی ہائی کورٹ نے بی جے پی لیڈر اسمرتی ایرانی کے تعلیمی ریکارڈ کو منظر عام پر لانے کے مطالبے کو بھی مسترد کیا۔
واضح رہے کہ عام آدمی پارٹی کے لیڈر نیرج شرما نے حق اطلاعات کے تحت دلی یونیورسٹی سے وزیراعظم نریندر مودی کی تعلیمی ڈگریوں کے بارے میں معلومات طلب کی تھیں ۔ تاہم یونیورسٹی نے نجی معلومات قرار دیتے ہوئے تفصیلات دینے سے انکار کر دیا تھا ۔ نیرج شرما نے سینٹرل انفارمیشن کمیشن سے رجوع کیاتھا، جس نے دہلی یونیورسٹی کی انفارمیشن آفیسر میناکشی سہائے پر 25ہزارروپے جرمانہ عائد اورڈگری سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا حکم دیاتھا۔ دلی یونیورسٹی نے سنٹرل انفارمیشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف دلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button