بھارت اپنی شکست فاش کو الفاظ کی جنگ کے ذریعے جیت میں بدلنے کی کوشش کررہا ہے
سری نگر: بھارت پاکستان کے ہاتھوں میدانِ جنگ جس بری طرح ہارا ہے ، وہ اب اپنی اس ہار کو الفاظ کی جنگ کے ذریعے جیتنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارتی ناردرن آرمی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل پراتیک شرما نے "آپریشن سندور” سے متعلق بی جے پی کا بیانیہ دہراتے ہوئے خود کو اس کارروائی کا مرکزی کردار ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور اس حوالے سے کئی دعوے کیے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی جنرل نے پھر الزام عائد کیا ہے کہ پہلگام حملہ براہِ راست سرحد پار سے ہدایات پر پاکستان کے پراکسیز نے کیا۔ مگر بھارتی تفتیشی بیانات، گرفتاریوں اور بدلتے مو¿قف نے خود ہی اس الزام کی ساکھ ختم کر دی۔
حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی اسٹریٹجک غلطیوں نے انٹیلی جنس کوآرڈینیشن، فضائی دفاع اور عسکری و سیاسی ہم آہنگی میں سنگین نقائص کو بے نقاب کیا، اسکے برعکس پاکستان نے تمام داﺅ پیچ حکمت و مہارت سے استعمال کیے۔ بی جے پی پر بڑھتے سیاسی دباو¿ اور جواب طلب سوالات نے بھارتی قیادت کو اپنی ناکامیوں کو کہانیوں میں چھپانے پر مجبور کیا۔ صرف 30 منٹ میں ڈی اسکیلیٹ کرنے کی عجلت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت کی مہم اس پر الٹا پڑ گئی۔
اگرچہ بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کسی سیز فائر بات چیت سے انکار کیا تھا، مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس سے بھارتی بیانیے میں تضادات کھل کر سامنے آ گئے۔ بھارت نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی 16 اپریل کی اسلام آباد تقریر کو اشتعال انگیزی قرار دیا۔ حالانکہ انہوں نے صرف دو قومی نظریے اور کشمیر کو شہ رگ قرار دے کر پاکستان کی دیرینہ قومی پالیسی ہی کو دہرا یا، جو عوامی امنگوں کی ترجمان ہے۔ بی جے پی کے سیاسی ترجمان کا کردار ادا کرنے والی بھارتی فوجی قیادت آج دنیا بھر میں تماشہ بن چکی ہے۔ بھارتی جنرل نے الزام لگایا کہ پاکستان نے 1990 کی دہائی سے پراکسی وار شروع کر رکھی ہے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ پاکستان نے کبھی دراندازی نہیں کی بلکہ اپنی سرزمین سے دفاعی کارروائیاں کر کے بھارتی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور سیکڑوں پوسٹس تباہ کیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آپریشن سندور 7 مئی کو رات 1 بج کر 5 منٹ پر شروع ہوا اور اس میں قیمتی اہداف حاصل ہوئے۔ مگر ثبوت ظاہر کرتے ہیں کہ بھارتی حملوں کا اصل نشانہ عام شہری تھے— بچے، خواتین، مساجد، اسکول اور مدرسے ، جنہیں ”دہشت گرد کیمپ“ کہہ کر دنیا کو دھوکہ دینے کی ناکام کوشش کی گئی جسے عالمی میڈیا نے مسترد کر دیا۔ بھارتی جنرل کا کہنا کہ پاکستان نے 30 منٹ میں شدید شیلنگ کی جس پر بھارت نے ”اعلیٰ فائر پاور“ سے جواب دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی دفاعی کارروائیوں نے بھارتی پوزیشنز کو مکمل طور پر ناکام بنا کر بھاری نقصان پہنچایا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ چار دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا اور چار لانچ پیڈز تباہ کیے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپریشن ناکام ہوا، پاکستان نے چھ بھارتی طیارے اور تقریباً سو ڈرون مار گرائے ۔ بھارتی جنرل نے مقبوضہ کشمیر میں 97 روزہ مشترکہ فورسز آپریشن کی بات کی اور تین دہشت گرد دوں کو مارنے کا دعوی کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے ”کاو¿نٹر ٹیررازم“ کے نام پر مقامی کشمیری عوام کو نشانہ بنایا، بے گناہ افراد کو قتل کر کے دہشت گرد قرار دیا اور جبر کی پالیسی جاری رکھی۔بھارتی جنرل کا کہنا ہے کہ ائر فورس نے دہشت گردی کے خلاف طاقتور پیغام دینے کے لیے کامیاب کارروائیاں کیں۔ مگر معروف بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے بھارتی ایئر چیف کا پاکستان کے 6 طیارے گرانے کا بیان مضحکہ خیز قرار دیدیا۔کرن تھاپرکے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پراوین ساہنی نے کہا کہ ایئر چیف اے پی سنگھ کا بیان کسی طرح درست نہیں لگتا ، اس میں بہت سی خامیاں ہیں اور بہت سی باتیں واضح نہیں ہے، ایسا محسوس ہوتاہے کہ کسی نے آخری لمحے میں ایئر چیف کو ہدایت کی ہو کہ اپنی تقریر میں یہ باتیں شامل کر لو، ایئر چیف بتائیں اگر کچھ ہواہے تو اس کے ثبوت کہاں ہیں، تباہ ہونے والے طیارے کہاں ہیں ، اگر واقعی کچھ ہواہے تو عوام کو بتائیں۔پرواین ساہنی کا کہناتھا کہ وہ پانچ لڑاکا طیارے کون سے تھے ، کیا وہ جے 10 تھے، جے ایف 17 تھے یا ایف 16 تھے ؟ یہ سب چیزیں ایسی ہیں جو کسی بھی ایئر چیف کو معلوم ہونی چاہئیں۔
بھارتی جنرل نے یہ دعویٰ بھی کیاسات کیمپ نشانہ بنے، فضائیہ نے مریدکے اور بہاولپور پر حملہ کیا اور بحریہ نے غلبہ برقرار رکھا۔ مگر عالمی میڈیا نے ان دعوو¿ں کی کوئی تصدیق نہیں کی، پاکستان نے بھر پور ثبوت دیے کہ بھارت نے شہری علاقے نشانہ بنائے اور بھارتی بحریہ محض دکھاوا کرتی رہی۔ مودی حکومت اور بھارتی جنرل دراصل جنگ میں ہوئی اپنی عبرتناک شکست اور رسوائی پر پردہ ڈالنے کے لیے پروپیگنڈہ کا سہارا لے رہے ہیں، وہ کامیابیوں کادعویٰ توکر رہے ہیں لیکن ان کے پاس اس حوالے سے کسی قسم کے کوئی ثبوت نہیں ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ بھارت میدانِ جنگ میں بری طرح ہارا ہے۔







