بھارت

امریکی اور یورپی یونین کی پابندیوں نے بھارتی معیشت کو مفلوج کرنا شروع کردیا

سعودی، عراقی ائل کمپنیوں نے بھی بھارت کو خام تیل کی فروخت روک دی

نئی دہلی: امریکی اور یورپی یونین کی پابندیوں نے بھارتی معیشت کو بری طرح متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، ملک کا توانائی کا اہم شعبہ اب مغربی دباو¿ کا شکار ہے۔ روس سے منسلک کاروباری اداروں کے خلاف واشنگٹن کی تعزیری کارروائی کے بعد یورپی یونین نے بھی پابندیوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس سے بھارت کی تیل کی درآمدات اور اقتصادی استحکام کو شدید دھچکا لگا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یورپی یونین نے بھارت کی دوسری سب سے بڑی تیل صاف کرنے والی ریفائنری ودی نار پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ جنوبی ایشیائی ملک میں پہلی ریفائنری ہے جسے یورپی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ودی نار ریفائنری بھارتی ریاست گجرات میں واقع ہے اور اسے ایک نجی بھارتی-روسی کمپنی نایارا انرجی چلاتی ہے ۔
سعودی اور عراقی تیل کمپنیوں نے بھی یورپی یونین کی پابندیوں کی وجہ سے بھارت کوخام تیل کی فروخت روک دی ہے۔بھارتی ائل ریفائنری ہر ماہ 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل اور 10 لاکھ بیرل سعودی خام تیل خریدتی تھی۔شپنگ ڈیٹا کے مطابق یورپی پابندیوں کے بعد اگست میں بھارتی ائل ریفائنری کو سعودی اور عراقی کمپنیوں کی کوئی شپمنٹ موصول نہیں ہوئی، جس کے بعد بھارتی ائل ریفائنری اب صرف روسی خام تیل پر انحصار کر رہی ہے۔
بھارت جہاں صنعتوں اور صارفین کو پہلے ہی تیل کی بڑھتی ہوئی طلب کا سامنا ہے، سعودی اور عراق کے اقدام سے اس کے لیے صورتحال مزید مشکل ہو گی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کو اسکے دوہرے پن او ر دوہری سفارتکاری خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اسکا یہ دوغلا پن امریکہ اور مغرب پر عیان ہو چکا ہے۔امریکہ و مغرب بھارتی طرز عمل کو اپنے اسٹریٹجک اور اقتصادی مفادات کیلئے ضرررساں سمجھتے ہیں۔مبصرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر پابندیوں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ترقی کے تمام بھارتی خواب دھرے کے دھر ے رہ جائیںگے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button