بھارتی میڈیا کی ساکھ کو شدید بحران کا سامنا، جنیو سائیڈ واچ کی رپورٹ میں انکشاف

نئی دلی:امریکی ادارے جنیو سائیڈ واچ نے مودی حکومت کے دورمیں بھارتی میڈیا کی گرتی ہوئی ساکھ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی میڈیاپیشہ ورانہ اقدار کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے صحافت کے بجائے مودی سرکار کے ترجمان کا کردار ادا کررہاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنیو سائیڈ واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گودی میڈیا اب آزادانہ رپورٹنگ کے بجائے سیاسی اثر و رسوخ کے زیر اثر کام کر رہاہے ۔بھارتی میڈیا کے کئی بڑے ادارے ہندوتوابی جے پی کے بیانیے کوآگے بڑھارہے ہیں جبکہ آزادانہ احتساب کا کردار کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں مسلم مخالف بیانیہ معمول بنتا جا رہا ہے اور شناختی سیاست کو فروغ مل رہا ہے، جس سے مسلمانوں کو نشانہ بنانا آسان ہو جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق میڈیا میں خود سنسرشپ اور منظم دبائو نے ایسے حالات پیدا کیے ہیں جہاں طاقتور سیاسی اور معاشی عناصر پر تنقید محدود ہو گئی ہے۔ جنیو سائیڈ واچ نے اسے صرف میڈیا کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی بحران قرار دیا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں آزادی صحافت پر قدغن سے جمہوری عمل متاثر اور معاشرتی تقسیم اور پولرائزیشن مزید بڑھ گئی ہے۔







