خصوصی رپورٹ

مودی کی ناقص سفارتکاری نے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ کردیا ہے

اسلام آباد : مودی کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر ابتری کا شکار ہے اوروہ چین اور روس کے ساتھ قربت کا دکھاواکرتے ہوئے ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے شدت سے کوشش کر رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت نہ کرنا ان کی بے عزتی کے خوف کا اظہار ہے اور برکس (برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ)سے گریز کرنا واشنگٹن کو ناراض کرنے سے اس کی گھبراہٹ ظاہرہوتی ہے۔بھارت آج الجھن کا شکار، کمزور اور سفارتی طور پر بے نقاب ہوچکا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)کے موقع پر چین اور روس کے ساتھ ہم آہنگی کا اظہار لیکن واشنگٹن کے ناراض ہونے کے خوف سے برکس کو نظرانداز کرنے سے بھارتی خارجہ پالیسی کی خامیاں بے نقاب ہوتی ہیں۔بھارت کا دوغلا پن اب نہیں چل سکتا۔ یا تو یہ تسلیم کر لے کہ یہ قابل بھروسہ ساتھی نہیں یا پھر وہ اپنی ساکھ اور بڑی طاقت کا بھروسہ کھو چکا ہے جو وہ پہلے ہی کھو چکا ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ کے ٹیرف کے ہتھوڑے کے ساتھ بھارت امریکی تجارتی جارحیت پر غور کرنے کے لئے چین اور روس کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھنے کی ہمت نہیں کر سکتا، نہ ہی ٹیرف کو کم کرنے کے لئے امریکہ پر دبائو ڈال سکتا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے روسی تیل خریدنے پر بھارتی درآمدات پر 50فیصد محصولات عائد کیے ہیں لیکن مزید امریکی جرمانے کے خوف سے مودی نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔مودی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی شرکت نہیں کررہے کیونکہ وہ امریکہ میںٹرمپ کی تنقید سے شرمندہ نہیں ہونا چاہتے، 56 انچ کا خود ساختہ سینہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے گریز کرتا ہے کیونکہ انہیں ٹرمپ کی سخت بیان بازی سے عوامی رسوائی کا خدشہ ہے۔ٹرمپ نے بھارت کو یہ سبق دیا ہے کہ صرف یورپی یونین ہی روسی تیل خرید سکتی ہے، بھارت نہیں۔ جوبھارت کے دفاع میں مودی کی ناکامی اور اس کی کمزور اور ناقص سفارت کاری کو ظاہر کرتی ہے۔نہ مشرق اور نہ مغرب بھارت پر بھروسہ کرتا ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین دونوںسے بھارت کو سخت رویے کا سامنا ہے۔چین اور روس کو کنفیوژن کی وجہ سے بھارت اہم فورمز سے غائب نظرآتا ہے۔مودی کا توازن قائم کرنے کی کوشش ایک ذلت آمیز حرکت میں تبدیل ہوگئی ہے ۔ ایک طرف وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نہیں جا رہے ہیں، دوسری طرف برکس میٹنگ کو چھوڑ کر بھارت بالکل الگ تھلگ اور بوکھلاہٹ کا شکار نظرآتا ہے۔پیوٹن اورشی جن پنگ کے ساتھ مودی کے فوٹو شوٹ بے معنی ہے کیونکہ چین اور روس اس پر بالکل بھروسہ نہیں کرتے۔ بھارت ایک قابل اعتماد پارٹنر کے طور پر اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔اسٹریٹجک خودمختاری اسٹریٹجک کنفیوژن میں تبدیل ہوگئی ہے۔ کبھی کثیر ملکی صف بندی کا دعویٰ کرنے والی مودی کی سفارت کاری خوف کا شکارہے۔ بھارت کی جعلی ترقی کے تکبر نے اسے بے نقاب اور الگ تھلگ کر دیا ہے۔جہاں پاکستان نے اعتماد اور دوستی پر مبنی خارجہ پالیسی کے ساتھ ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ایک واضح راستہ طے کیا ہے، وہیں مودی کا بھارت اپنی ہٹ دھرمی، فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے عاری اور خارجہ پالیسی کی بصیرت کے فقدان کی وجہ سے ایک تڑی پار ریاست بن گیا ہے۔ مودی نے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ کردیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button