”وندے ماترم“گانے پر زبردستی نہیںکی جاسکتی، جماعت اسلامی ہند

نئی دلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے ریاست مغربی بنگال کے مدارس میں ”وندے ماترم“ کو لازمی قرا ر دیے جانے کی خبروں پر سخت ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ شہریوں کو کوئی مخصوص نغمہ گانے پر مجبور کرے ۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق ملک ملک معتصم خان نے ایک خبر رساں ادارے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حب الوطنی اور ملک کے احترام کو زبردستی کے پیمانے پر ہرگز ناپا نہیں جاسکتا ۔ انہوںنے کہا کہ ملک سے محبت اور ملک کا احترام دو الگ چیزیں ہیں، کوئی بھی حکومت اپنے شہریوں کو یہ حکم نہیں دے سکتی کہ وہ کون سا نغمہ گائیں ار کون سا نہ گائیں۔ اس بارے میں سپریم کورٹ واضح فیصلہ دے چکی ہے ۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرنے کہا کہ افراد اور اداروں کو یہ آزادی ہونی چاہیے کہ وہ خود فیصلہ کریں کہ آیا وہ وندے ماترم گانا چاہتے ہیں یا نہیں ۔ انہوںنے کہا کہ جو لوگ اسے گانا چاہتے ہیں وہ گائیں اور جو نہیں گانا چاہتے ، انہیںمجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔مدارس کو بھی یہ حق ہے کہ وہ اس ہدایت پرعمل کریں یا نہ کریں۔ انہوںنے کہا کہ اگر حکومت اسے زبردستی نافذ کرتی ہے تو یہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے خلاف ہوگا ۔
انہوںنے گائے کے ذبیحہ پر پابندی کے حوالے سے کہا کہ بھارت میں کئی بڑے ذ بح خانے غیر مسلموں کی ملکیت میں ہیں جہاں گائے ذبح کیجاتی ہے اور گوشت بیرون ملک برآمد کیا جاتا ہے لہذا بی جے پی کو چاہیے کہ سب سے پہلے وہاں پابندیاں عائد کرے۔






