مودی حکومت اندرون و بیرون ملک دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کر رہی ہے
اسلام آباد: مودی کی بھارتی حکومت نے اندرون اور بیرون ملک دہشتگردی کو ایک ریاستی پالیسی کے طورپر استعمال کررہی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارت نے طویل عرصے سے پاکستان کو بدنام کرنے اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کا استعمال کیا ہے۔مودی کا ہندوتواایجنڈا مذہبی دہشت گردی سے کم نہیں اور گجرات کے قتل عام سے لے کر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ریاستی دہشت گردی تک مودی کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام مسلسل جاری ہے۔مودی کے بھارت نے اسرائیلی طرز پربیرون ملک اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بھی قتل و غارت کا بازار گرم کرر کھا ہے ۔ مودی حکومت ایک طرف تو عسکریت پسندوں کو فنڈنگ اور پناہ فراہم کرتی ہے جبکہ ہمسایہ ممالک پر دہشتگردی کا بے بنیاد الزامات عائد کیاجاتاہے۔مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی مزاحمت کو کچلنے کے نوآبادیاتی منصوبے کا حصہ ہے۔ آر ایس ایس کا ہندوتوا نظریہ پورے جنوبی ایشیا میں نفرت، انتہا پسندی اور عدم استحکام کا باعث ہے ۔بھارت پاکستان اور کشمیریوں کے خلاف اپنے مذموم ایجنڈے کے حصول کیلئے گودی میڈیا، سائبر ٹیکنالوجی اور دہشت گردی کوبطور ریاستی پالیسی استعمال کر رہا ہے۔دنیا کو بھارت کو نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ملک بلکہ دہشت گردی کے ریاستی سرپرست کرنے والے ملک کے طورپر دیکھنا چاہیے کیونکہ مودی کی قیادت میں ہندوتوا دہشت گردی پرامن بقائے باہمی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔








