مضامین

عالمی یومِ امن، کشمیر و فلسطین، وزیر اعظم شہباز شریف کا بیان

تحریر: ارشد میر

ہرسال کی طرح کل 21 ستمبر کوامن کا عالمی دن منایا گیا۔ اس کا آغاز 42 سال قبل ہوا تھا جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1981 میں 36 ویں اجلاس میں متفقہ طور پر یوم امن کے قیامکی قرارداد کی منظوری دی تھی تا کہ ہر سال 21 ستمبر کا یہ دن ہمیں امن کے فروغ کے عہد کی یاد دلاتا رہے کہ ہم سب دنیامیں قیام امن، تعمیر امن اور فروغ امن کی کاوشوں میںہر سطح پر اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ اس موقع پر دنیا بھر میں امن کی اہمیت،  ضرورت،خواہش اور عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے یوم امن کے موقع پر ہر سال ایک خصوصی موضوع تجویز کیا جاتا ہے اور دنیا بھر میں تمام سرگرمیاں اسی موضوع کے گرد گھومتی ہیں۔ 2022 میں ”نسل پرستی کا خاتمہ، امن کی تعمیر“ اس کا موضوع تھا۔امن کے اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے اقوام متحدہ کبوتر کی علامت استعمال کرتاہے۔ کبوتر وہ پرندہ ہے جو فطرت میں پرسکون تصور کیا جاتا اور عالمی سطح پر ہمدردی اور محبت کی علامتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس لیے اقوام متحدہ نے باضابطہ طور پر کبوتر کو دنیا میں اپنے امن مشن کی علامت بھی قرار دے رکھا ہے۔یوم امن کا مقصد تمام ممالک اور اقوام کو ہر حال میں قبول کرنا اور قبولیت کے فلسفہ کو فروغ دینا ہے۔ یہ دن مطالبہ کرتا ہے کہ عدم تشدد پر قائم رہ کر امن سے اپنی وابستگی ظاہر کی جائے۔ یہ دن ایک دوسرے کے درمیان اختلافات کو دور کرنے اور باہمی امن، محبت اور یگانگت کے فروغ کا عزم دہراتا ہے۔

اس دن کے منانے کا مقصد یہ بھی ہے کہ ان 24 گھنٹوں میں کوئی تشدد اور فائرنگ نہیں ہوگی۔ یہ ایک طرح سے عدم تشدد اور جنگ بندی کا چارٹر ہے جس کی یقین دہانی اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک نے کروا رکھی ہے۔ چارٹر مطالبہ کرتا ہے کہ دنیا کے تمام ممبر ممالک اس دن رات کے 24 گھنٹوں کے دوران عدم تشدد اور جنگ بندی پر کاربند رہیں گے۔ اس طرح کی قرارداد جنگوں یا تنازعات سے پیدا ہونے والی صورتحال کے متاثرین کو کم از کم 24 گھنٹے کی راحت فراہم کرتی ہے۔ مگر عین ا سی روز اسرائیل نے  غزہ میں کم از کم 31 فلسطینی شہید کئے ا جن میں ایک حاملہ خاتون اور اُس کے دو بچے شامل تھے اور گازت سمیت کئی علاقوں میں 15 مزلہ مشتہا سمیت کئی رہائی ٹاور مکانات گولہ باری کرکے تباہ کردئے۔

گزشتہ 3400 برسوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ انسانیت نے صرف 268 برس ہی امن دیکھے ہیں جبکہ باقی پورا عرصہ جنگوں، قتل و غارت اور بربادی کی نذر ہوا۔ صرف بیسویں صدی میں ہی دس کروڑ سے زائد افراد جنگوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ اسی پس منظر میں عالمی امن دن منانے کی روایت شروع ہوئی۔ اسکی ابتدا پوپ پال ششم نے 1967 میں کی جبکہ اقوام متحدہ نے بعدازاں باضابطہ طور پر 1981 میں اسے تسلیم کیا۔اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں 60 سینٹی میٹر قطر، 1 میٹر اونچی اور 60 کلو وزنی ایک گھنٹی نصب ہے   جسے 1951 میں پیرس میں منعقدہ انجمن اقوام متحدہ (یو این اے) کی 13ویں جنرل کانفرنس میں 60 ممالک کے مندوبین کی جانب سے عطیہ کیے گئے سکوں سے بنایاگیا۔ اور 1954 میں اقوام متحدہ کو بطور تحفہ پیش کی گئیتھی۔ہر سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاح کے ساتھ ساتھ 21 ستمبر کو امن کے عالمی دن کے موقع پر تقاریب منعقد کی جاتی ہیں تو سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ دیگر ایگزیکٹوز کے ساتھ مل کر امن کی یہ گھنٹی بجاتے ہیں۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نےاس سال وم عالمی امن کے موقع پر اس گھنٹی کو بجائے جانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن کی یہ گھنٹی یاد دلاتی ہے کہ چھوٹی سی کاوش بھی پائیدار نتائج دیتی ہے اور منقسم دنیا میں بھی امن قائم کرنے کے لیے متحد ہوا جا سکتا ہے۔دور حاضر میں امن کو خطرہ لاحق ہےاور بڑھتے مسلح تنازعات کے نتیجے میں شہریوں کو تکالیف کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ  جنگوں کے خاتمے، سفارت کاری کو مضبوط کرنے، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے، اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری،تنازعات کی بنیادی وجوہات پر قابو پانے اور اس کی روک تھام، مکالمے اور اعتماد میں اضافے کے اقدامات اٹھانے اور امن کے علمبرداروں بالخصوص خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی۔انتونیو گوتیرش نے کہا کہ جنگ زدہ دنیا امن کے لیے پکار رہی ہے۔ امسال یہ دن سبھی پر اسی پکار میں اپنی آواز شامل کرنے کے لیے زور دیتا ہے۔ دنیا بھر میں جنگ کی بربریت اور ذلت کے باعث زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں، بچپن چھن رہے ہیں اور بنیادیانسانی وقار پامال ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور غیرمعمولی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں جو صرف امن چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پائیدارترقی سے امن کے لیے مدد ملتی ہے۔ ترقی کے میدانمیں سب سے زیادہ مشکلات کا شکار 90 فیصد ممالک کو تنازعات کا سامنا ہے۔ بہتر اور پرامن مستقبل کے لیے نسل پرستی،غیرانسانی سلوک اور گمراہ کن اطلاعات کا خاتمہ کرنا ہوگا جو جنگ کے شعلوں کو ہوا دیتی ہیں۔جہاں امن ہوتا ہے وہاں امید ہوتیہے، امن سے خاندان یکجا ہوتے ہیں، معاشروں کی تعمیرنوہوتی ہے اور بچے سیکھتے اور کھیلتے ہیں۔ امن انتظار نہیں کر سکتا اور اس کے لیے ابھی کام شروع کرنا ہو گا۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کیصدر اینالینا بیئربوک نے کہا کہ ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ امن صرف پانچ حروف پر مشتمل ایک سادہ لفظ نہیں بلکہ یہ آنے والینسلوں اور بچوں کے لیے موجودہ نسل پر عائد ہونے والی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر اقوام متحدہ بارہا اپنے سب سے بڑے وعدے یعنی قیام امن کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے، تو کیا اب بھی اس کے چارٹر کیاہمیت برقرار ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ نقطہ نظر نہ صرف منافقانہ بلکہ غیر ذمہ دارانہ بھی ہے۔ یہ ہار ماننے کا وقت نہیں، بلکہ امن کے لیے مزید کام کرنے کا وقت ہے۔جنرلاسمبلی کی صدر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ غزہ سے سوڈان تک جاری جنگوں اور جمہوریہ کانگو، ہیٹی، میانمار اور یمنمیں جاری نظرانداز شدہ مسلح تنازعات کو حل کرنے اور ان علاقوں میں قیام امن کے لیے بھرپور کوششیں کریں گی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے اس دن کے موقع  پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ جب تک مقبوضہ جموں وکشمیر اورفلسطین کے عوام کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت نہیں دیا جاتا، پائیدار امن ایک خواب ہی رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ جب ہم امن کے حقیقی مفہوم پر غور کرتے ہیں توہم بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر اور فلسطین کے مقبوضہ علاقے میں جاری سنگین انسانی المیوں کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تنازعات کی بنیادیں ختم نہ کر دی جائیں،آج دنیا بھر میں تنازعات اور ناانصافیاں بنی نوع انسان کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن ہمیں سنجیدہ انداز میں اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ امن کے فروغ کے لیے ہر فرد اور ہر قوم کو اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کرنا ہوگا۔ شہباز شریف نے کہا کہ پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تنازعات کی بنیادیں جن میں غربت، انسانی حقوق سے انکار اور بڑھتی ہوئی عدم برداشت شامل ہیں، ختم نہ کر دی جائیں۔انہوں نے کہا کہ امن کو مضبوط بین الاقوامی اداروں کے ذریعے پروان چڑھانا اور محفوظ رکھنا ہوگا، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن ذرائع سے تنازعات کے حل کے عزم کو ایک بار پھر پختہ کرے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اس بات پر فخر ہے کہ اس نے عالمی امن کے قیام میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں دہائیوں پر محیط شمولیت اور متاثرہ آبادیوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنا پاکستان کی ان کاوشوں کا حصہ ہے جن سے دنیا کے جنگ زدہ خطوں میں امن و استحکام کو فروغ ملا۔اس عالمی یومِ امن پر آئیے ہم سب تعمیری اور اجتماعی عمل کا عہد کریں، ان ہتھیاروں کو خاموش کریں جو بے گناہوں کی جان لیتے ہیں، سفارت کاری پر دوبارہ اعتماد کریں اور تنازعات کو پرامن ذرائع سے حل کریں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ ہمارے ساتھ مل کر امن، انصاف اور انسانیت کی بحالی کے لیے جدوجہد کرے۔ وزیر اعظم نے دنیا بھر میں قیام امن کے لئے دعا کی۔

دنیا بھر میں 21 ستمبر کو منایا جانے والا "یومِ امن” محض ایک یادگار دن نہیں بلکہ یہ انسانیت کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کا دن ہے۔ اگرچہ اقوام متحدہ نے اس دن کو عالمی سطح پر تسلیم کر کے ایک امید کی شمع روشن کی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس علامتی دن کے اثرات عملی دنیا میں نظر آتے ہیں یا نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ عالمی یومِ امن کو بعض طاقتور ملک محض ایک نمائشی سرگرمی کے طور پر لیتے ہیں۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ 2024 میں بھی اس دن کے موقع پر اسرائیل نے غزہ میں نہتے شہریوں پر بمباری کرکے درجنوں جانیں لیں، گویا امن کی گھنٹی بجنے کے ساتھ ہی جنگی جرائم کی گونج دنیا بھر میں سنائی دی۔ یہ واقعہ اس سوال کو مزید تقویت دیتا ہے کہ عالمی برادری کا ضمیر کب بیدار ہوگا؟امن کو دنیا کے مختلف خطوں میں مختلف انداز سے سمجھا جاتا ہے۔ مغربی دنیا کے لیے امن کا مطلب اکثر اپنے معاشی اور اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ سے ہوتا ہے۔ وہ ممالک جو اسلحہ بیچ کر کھربوں ڈالر کماتے ہیں، بظاہر امن کے علمبردار بھی بن جاتے ہیں۔ امریکہ اور یورپی طاقتوں کے بیانات اور عملی اقدامات میں یہی تضاد نظر آتا ہے۔ دوسری طرف ترقی پذیر ممالک امن کو بقا اور زندگی کی ضمانت سمجھتے ہیں کیونکہ وہ براہِ راست جنگوں کے اثرات سہتے ہیں۔ افغانستان، شام، یمن، سوڈان، کانگو اور فلسطین اس کی واضح مثالیں ہیں۔امن کے عالمی دن پر اگر اسلحہ سازی کی صنعت کا جائزہ لیا جائے تو ایک اور تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ دنیا میں ہر سال دو کھرب ڈالر سے زیادہ رقم ہتھیاروں کی تیاری پر خرچ کی جاتی ہے۔ اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹس بتاتی ہیں کہ اگر اس رقم کا صرف ایک چوتھائی حصہ غربت مٹانے اور تعلیم و صحت پر لگایا جائے تو دنیا کے بیشتر مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ مگر طاقتور ممالک کا مفاد ہی جنگ کے شعلوں کو ہوا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ "یومِ امن” ایک دن کی تقریبات تک محدود رہ جاتا ہے اور اگلے ہی دن نئے محاذِ جنگ کھل جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود فلسطین اور کشمیر جیسے دیرینہ تنازعات آج تک حل نہیں ہو سکے۔ اس ناکامی نے عالمی ادارے کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں پر ہی عمل درآمد نہیں ہو سکتا تو پھر امن کے عالمی دن کے پیغامات کی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟ یہ تضاد عالمی سیاسی نظام کے اندرونی بگاڑ اور طاقت کے عدم توازن کو ظاہر کرتا ہے۔جنوبی ایشیا دنیا کا سب سے زیادہ عسکریت زدہ خطہ ہے جہاں بھارت اور پاکستان کے درمیان دیرینہ تنازعہ کشمیر آج بھی لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہا ہے۔ بھارت کے حالیہ اقدامات نے خطے میں امن کے امکانات کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ عالمی یومِ امن کا تقاضا ہے کہ ایسے تنازعات کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے حل کیا جائے تاکہ خطے میں کروڑوں لوگ سکون اور خوشحالی کا سانس لے سکیں۔امن کا قیام صرف جنگ بندی سے ممکن نہیں۔ اصل امن تب آئے گا جب سیاسی اور سماجی انصاف فراہم ہوگا۔ دنیا کے بیشتر تنازعات کی جڑ ناانصافی، جابرانہ اور غیر قانونی تسلط، حق خود ارادیت سے انکار، ریاستی جبر ، غربت، نسلی امتیاز اور مذہبی تفریق ہے۔ امن کے عالمی دن کا پیغام اسی وقت بامعنی ہوگا جب عالمی برادری ان مسائل کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔

 

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

مزید دیکھئے
Close
Back to top button