مقبوضہ جموں و کشمیر

کرفیو زدہ لداخ غیر ملکی سیاحوں کیلئے بھیانک خواب بن گیا

لیہ : غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے لداخ خطے میں جاری پرتشدد احتجاجی تحریک کے بعد نافذ کرفیو نے نہ صرف مقامی زندگی مفلوج کر دی ہے بلکہ درجنوں غیر ملکی اور بھارتی سیاح بھی سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ ہوٹلوں میں محصور سیاح خوراک اور بنیادی سہولیات کی کمی کے خدشات میں مبتلا ہیں اور حکام کی بے حسی پر برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی سیاح امانڈا وی ورواکس نے کہا کہ لداخ کا ان کا برسوں پرانا خوابوں کا سفر کرفیو کے باعث ایک ڈراؤنے خواب میں بدل گیا ہے کیونکہ وہ اپنے ہوٹل تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔انہوں نے بتایا "ہم نے پینگونگ جھیل اور دیگر مقامات کی سیر کا منصوبہ بنایا تھا لیکن انتظامیہ کوئی تعاون نہیں کر رہی۔ ہمارے پرمٹ بھی نامکمل دستخطوں کے بہانے رد کر دیے گئے ہیں اور ہمیں کسی قسم کی وضاحت بھی نہیں دی جا رہی۔”
امانڈا نے مزید کہا کہ ہوٹل کے عملے کو بھی فکر ہے کیونکہ خوراک کرفیو کی وجہ سے ختم ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے لداخ کو اس طرح دیکھنے کا تصور کبھی نہیں کیا تھا،” انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے اپیل کی کہ سیاحوں کے لیے واضح رہنمائی فراہم کی جائے۔ امانڈا کے ساتھ موجود بھارتی شہری انوج ہندو نے کہا کہ زیادہ تر سیاح اپنے کمروں میں محصور ہیں۔ "ہمیں 2 اکتوبر کو واپس جانا ہے اور ہم انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک نوڈل افسر مقرر کیا جائے تاکہ سیاحوں کی آمدورفت ممکن ہو سکے۔”
واضح رہے کہ لداخ ایپکس باڈی (ایل اے بی) کے یوتھ ونگ کی جانب سے ریاستی درجہ اور چھٹے شیڈول کے نفاذ کے مطالبے پر دیے گئے شٹر ڈاؤن کے دوران پرتشدد احتجاج بھڑک اٹھا تھا، جس پر بھارتی پولیس کی فائرنگ سے چار شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ اس سانحے کے بعد پورے خطے میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button