بھارت :اڑیسہ میں پر تشدد کارروائیاں، پابندیاں نافذ، انٹرنیٹ معطل

بھونیشور:بھارتی ریاست اڑیسہ کے علاقے کٹک میں حکام نے تازہ فرقہ وارانہ تشدد کے بعدجس میں کم از کم 25 افراد زخمی ہوئے ہیں، پابندیاں عائد کر دی ہیں اور انٹرنیٹ سروسز کو معطل کر دیا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پولیس نے بتایا کہ اتوار کی رات درگا مورتی کے وسرجن کے دوران دوبارہ جھڑپیںشروع ہونے پر13تھانوں کے علاقوں میں دفعہ 144کے تحت 36 گھنٹوں کے لیے پابندیاں عائد کی گئیں۔ پولیس کی جانب سے جلوس کو روکنے کے بعد گوری شنکر پارک کے علاقے میں دکانوں اور گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا جبکہ راستے میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی توڑ پھوڑ کی گئی۔حکام نے کٹک میونسپل کارپوریشن کی حدود، کٹک ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور ملحقہ علاقے میں انٹرنیٹ سروسز معطل کردیں تاکہ افواہوں اور غلط معلومات کے پھیلا ئوکو روکا جاسکے۔اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی اور بی جے ڈی لیڈر نوین پٹنائک نے عوام سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے اور امن کی بحالی میں انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔
دریں اثناء ہندو انتہاپسند تنظیم وشوا ہندو پریشدنے آج کٹک میں 12 گھنٹے کی ہڑتال کی کال دی ہے۔







