بھارت

بھارت میں دلت چیف جسٹس پر حملہ: فرقہ وارانہ تعصب اور ہندوتوا انتہا پسندی بے نقاب

نئی دلی:بھارت کے چیف جسٹس بی آر گوائی پر ایک سینئر وکیل کی جانب سے دورانِ سماعت جوتا پھینکنے کا واقعہ نہ صرف عدلیہ کی توہین ہے بلکہ اس سے بھارت میں بڑھتی ہوئی ذات پات کی تفریق، فرقہ وارانہ تعصب اور ہندوتوا انتہا پسندی کی عکاسی بھی ہوتی ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق71سالہ وکیل راکیش کشور نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پر جوتا پھینکا لیکن حیران کن طور پر پولیس نے اس کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا اور اسے بغیر کسی کارروائی کے رہا کر دیا۔ قانونی ماہرین اور سیاسی مبصرین نے اس واقعے کوآئین اور قانون کی بالادستی پر حملہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں عدم مساوات اور ذات پات پر مبنی نفرت کو ریاستی سرپرستی حاصل ہے۔چیف جسٹس بی آر گوائی بھارت کے دوسرے دلت چیف جسٹس ہیں، جو بی آر امبیڈ کر کے نظریات کے حامی ہیں ۔حالیہ دنوں میں ایک مقدمے سے متعلق ان کے ریمارکس کو ،ہندوتوا تنظیموں نے "سناتن دھرم”کی توہین قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ان کے خلاف سخت زہر افشانی کی ہے ۔ اسی مہم کے دوران ان پر جوتے سے حملہ کیاگیا ہے ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس حملے کو محض ایک فرد کا فعل قرار دینادرست نہیں بلکہ اس سے ایک منظم سوچ کی عکاسی ہوتی ہے جو بھارت کے آئینی اصولوں، مساوات، انصاف اور شمولیت کو چیلنج کر رہی ہے۔ بھارت کے ذات پات کے نظام میں نچلی ذات سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص جب کسی بااختیار عہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے فرقہ وارانہ تعصب کا نشانہ بنایاجاتاہے۔اپوزیشن جماعتوں نے چیف جسٹس پر حملے کی مذمت کی ہے تاہم حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اور مودی حکومت نے اس پر تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیاہے۔مودی حکومت کے طرز عمل پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور جمہوریت پسند حلقوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ بی آر امبیڈکر کے بنائے گئے آئین اور اس کی روح پر حملہ ہے وہی آئین جس میں ہر بھارتی شہری کو برابری، وقار اور آزادی کی ضمانت دی گئی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button