بھارت

بی جے پی اورآر ایس ایس اہم بھارتی اداروں پراپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں

نئی دہلی: بھارت کے آزاد صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ مودی کی زیر قیادت بی جے پی-آر ایس ایس حکومت بھارت کے اعلی تعلیمی اداروں پر اپنا سیاسی کنٹرول بڑھا رہی ہے اوران کی خودمختاری اور تعلیمی آزادی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انہوں نے یہ بات انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) رائے پور کے ڈائریکٹر رام کمار کاکانی کے استعفیٰ کے بعد کہی جو حکمران بی جے پی کے زیر اثر بورڈز کے ساتھ تنازعات کی وجہ سے پانچ سال کے اندر مستعفی ہونے والے تیسرے آئی آئی ایم سربراہ ہیں۔رام کمار کاکانی نے موجودہ نظام کے تحت پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے فقدان اور ادارہ جاتی خود مختاری کے خاتمے کا حوالہ دیتے ہوئے جولائی میں استعفی دیا تھا۔ان کا استعفی اس وقت آیا جب ایک فیکلٹی ممبر کے خلاف کی گئی تادیبی کارروائی کو چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے خارج کر دیا تھا جس نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ آئی آئی ایم ایکٹ 2017کے تحت ڈائریکٹر کے بجائے ادارے کابورڈ مجاز اتھارٹی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ کاکانی کا استعفیٰ آئی آئی ایم کلکتہ کے دو سابق سربراہان انجو سیٹھ (2021)اور اتم کمار سرکار (2023)کے استعفوں کا آئینہ دار ہے جنہوں نے سیاسی بنیادوں پر بورڈز کی مداخلت پر استعفی دیا تھا۔ممتاز صحافی ابھیسار شرما نے بتایا کہ یہ کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح بی جے پی اور آر ایس ایس منظم طریقے سے جے این یو، بی ایچ یو، آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم جیسی یونیورسٹیوں پر اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں اور ان کے آزاد کردار کو ختم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت سوچ پر اجارہ داری قائم کرنے اور اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے اوردوسری طرف گودی میڈیاتعلیمی ترقی اور ادارہ جاتی بہتری کا جھوٹا بیانیہ پیش کررہاہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معزز ماہرین تعلیم کے بار بار استعفے بی جے پی حکومت کی نظریاتی اور انتظامی مداخلت کے تحت بھارت کے اعلی تعلیم کے شعبے میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button