مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارتی پولیس کا سونم وانگچک کے ساتھی پر حراست کے دوران وحشیانہ تشدد

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں لہہ اپیکس باڈی نے کہا ہے کہ جیل میں نظربند معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کے ایک ساتھی کو پولیس نے حراست کے دوران وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لہہ اپیکس باڈی نے 24ستمبر کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد لداخ انتظامیہ کے ساتھ اپنے پہلے اجلاس سونم وانگچک کی غیر قانونی نظربندی اور ان کے ساتھی پر پولیس کے تشدد کا معاملہ اٹھایا ۔مظاہرین پربھارتی پولیس کے وحشیانہ تشدد سے چار افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے ۔لہہ اپیکس باڈی نے پولیس کی فائرنگ میںمظاہرین کی ہلاکتوں کی سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیااوراسے بھارتی وزارت داخلہ کے ساتھ تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی پیشگی شرط قراردیا۔اپیکس باڈی کے شریک چیئرمین چیرنگ ڈورجے نے کہا کہ وانگچوک کے ہمالیائی انسٹی ٹیوٹ آف الٹرنیٹیو لداخ میں کام کرنے والے سٹینزین یولو ناکردہ جرم کا اعتراف کرنے پر مجبور کرنے کیلئے پولیس نے حراست کے دوران وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے ۔انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ سٹینزین یولو کو پولیس نے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا ہے اور اس کے پورے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں اور اس وقت وہ لہہ کے سونم ناربو میموریل ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button