بھارت افغان گٹھ جوڑنے کرکٹ کو بھی پاکستان کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا
جے شاہ کی سربرائی میں آئی سی سی اپنی ساکھ بری طرح کھو چکی ہے
اسلام آباد:انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) ایک بار پھر جانبداری کے الزامات کی زد میں ہے۔ آئی سی سی نے افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) کے اس دعوے کی بغیر کسی تصدیق کے تائید کر دی کہ تین افغان کھلاڑی پاکستانی فضائی حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ پاکستان کے خلاف اس الزام نے آئی سی سی کی ساکھ پر ایک مرتبہ پھر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پاکستان نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا پاکستانی حملے میں 3 افغان کرکٹرز کی ہلاکت کا غیر مصدقہ دعویٰ سختی مسترد کر دیا۔وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے متعصب اور ناپختہ تبصرے کو مسترد کرتے ہوئے ”ایکس “پر بیان جاری کیا کہ آئی سی سی نے اس حوالے سے کوئی آزادانہ ثبوت نہیں دیا۔انہوں نے لکھا ”پاکستان خود سرحدپار دہشت گردی کا شکار ہے، یہ سب جے شاہ کی زیر قیادت آئی سی سی کی نئی قیادت کا پیٹرن بن چکا ہے، جے شاہ نے پاکستان پر الزامات کو سوشل میڈیا اکاو¿نٹ پر دہرایا، اس کے بعد افغان کرکٹ بورڈ نے بھی یہی دعویٰ د±ہرایا، ان واقعات نے آئی سی سی کی غیر جانب دار حیثیت پر سوال کھڑا کر دیاہے“۔
یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ بورڈ نے حالیہ کشیدگی کے بعد پاکستان میں ہونے والے سہ ملکی سیریز سے دستبرداری کا اعلان بھی کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا بھی کہنا ہے کہ جے شاہ کی سربراہی میں آئی سی سی اب بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے بیانے کی تشہیر کا ایک مکمل ذریعہ بن چکی ہے ۔بھارت اور افغانستان کے درمیان ”کرکٹ اتحاد“کھیل کے میدان کو بھی سیاسی محاذ میں تبدیل کر رہا ہے جسکا واحد مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کرنا اور اس کی کرکٹ ساکھ کو کمزور کرنا ہے۔افغان کھلاڑیوں کی مبینہ "فضائی حملے میں ہلاکت” پر آئی سی سی کا فوری ردِعمل اس کے طے شدہ طرزِ عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان پر کہیں سے کوئی الزام لگ جائے تو آئی سی سی فور ی طور پر اسکی تشہیر شروع کر دیتی ہے لیکن جب بھارت کرکٹ کے مسلمہ قوانین اور اصول و ضوابط کی دھجیاں اڑا تا ہے تو آسی سی چھپ سادھ لیتی ہے۔ آئی سی سی نے افغان کرکٹ بورڈ کے الزامات کی بغیر کسی تصدیق کے تشہیر کی اور ایک ایسا بیان جاری کر دیا جو پوری طرح سے پاکستان کے خلاف دونوںکی ایک مشترکہ منظم مہم کی غمازی کرتا ہے۔
جے شاہ کی قیادت میں آئی سی سی پر بھارت نوازی کے الزامات بارہا سامنے آ چکے ہیں۔ بھارت کی جانب سے کرکٹ ضوابط کی خلاف ورزیوں پر مسلسل چشم پوشی ادارے کی ساکھ کے لیے سخت ضرر رساںہے۔ماضی میں بھارت نے پاکستان سے کھیلنے سے انکار کیا، بھارتی کھلاڑیوں نے کھیل کے آداب کی خلاف ورزی کی، مگر آئی سی سی نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ حالیہ ایشیا کپ میں بھارتی کپتان نے پاکستان کے خلاف جیت کو بھارتی افواج کے نام منسوب کر کے کھیل کو سیاست زدہ کیا، لیکن آئی سی سی نے اس عمل پر بھی خاموشی اختیار کی۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کا یہ مطالبہ کہ آئی سی سی اپنی غیرجانبداری بحال کرے، انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ جے شاہ کی سربراہی میں آئی سی سی اپنی اعتباریت اور ساکھ بری طرح سے کھو چکی ہے۔ افغانستان کرکٹ بورڈ کا پاکستان و سری لنکا کے ساتھ سہ فریقی سیریز سے اچانک انخلا مکمل طور ایک سیاسی نوعیت کا فیصلہ ہے۔بھارت۔افغان گٹھ جوڑ نے کرکٹ کو بھی پاکستان کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کا مو¿قف واضح ہے کہ کھیل کو سیاست سے پاک ہونا چاہیے۔ اسلام آباد نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیرجانبداری اختیار کرے، الزمامات کی مکمل تحقیقات کرے اور عالمی کھیلوں کی شفافیت بحال کرے۔








