مقبوضہ جموں و کشمیر

جموں وکشمیر پر بھارت کے مسلسل قبضے سے جنوبی ایشیا کے امن کوسنگین خطرہ لاحق ہے: ڈی ایف پی

اسلام آباد:  ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی نے خبردارکیا ہے کہ جموں و کشمیر پر بھارت کا مسلسل فوجی قبضہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سنگین اور مستقل خطرہ ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈی ایف پی کے قائم مقام صدر محمود احمد ساغر نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے نام ایک خط میں عالمی ادارے کی توجہ 27اکتوبرکے یوم سیاہ کی طرف مبذول کرائی ہے جب جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی اور جبری قبضے کے 79سال مکمل ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ علاقے پربھارتی دعوے کا کوئی قانونی، اخلاقی یا آئینی جواز نہیں ہے کیونکہ جموں و کشمیر بین الاقوامی قانون کے تحت ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کی حتمی حیثیت کا تعین اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری کے ذریعے ہوناہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں بھارتی فوج کی بڑی تعداد میں موجودگی نے جو 10لاکھ فوجیوں کے قریب ہے،خطے کو دنیا کے سب سے زیاد فوجی جمائو والے علاقے میں تبدیل کردیا ہے۔خط میںبھارتی حکومت کے مظالم کو اجاگر کیا گیاجن میںبلاجواز گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں،قتل ، تشدد اور بنیادی آزادیوں پر سخت پابندیاں شامل ہیں۔خط میں بھارت کی جانب سے سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کودبانے کے لیے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA)اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA)جیسے کالے قوانین کے استعمال کی مذمت کی گئی اورکہا گیا کہ نئی دہلی کشمیریوں کی جائز جدوجہد آزادی کو دبانے کے لیے نوآبادیاتی دور کے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔محمود ساغرنے کہاکہ بھارت کی طرف سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی نے جن پر دونوں ممالک نے باہمی اتفاق کیا تھا، تنازعہ کشمیرکو طول دیا ہے جس نے جنوبی ایشیا کو جوہری فلیش پوائنٹ بنا دیا ہے۔ خط میں کہاگیاکہ رواں سال کے شروع میں پاک بھارت تصادم نے بھارت کی ہٹ دھرمی اور عالمی برادری کی مسلسل بے عملی سے لاحق سنگین خطرات کو ظاہر کیا۔خط میں اقوام متحدہ پر زور دیا گیا کہ وہ حق خودارادیت کی بنیاد پر تنازعہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے اپنی اخلاقی اور ادارہ جاتی ذمہ داری پوری کرے۔محمود ساغر نے کہا وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض فوجیوں کے جرائم پر بھارت کو جوابدہ ٹھہرائے اور خطے میں پائیدار امن اور انصاف کو یقینی بنانے کے لیے اپنی قراردادوں پر عملدرآمدکرائے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button