یوم سیاہ کی مناسبت سے مظفرآباد اور آزاد جموں و کشمیر کے دیگر علاقوں میں بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے
مظاہرین کی اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کویادداشتیں پیش ،عالمی ادارے کی قراردادوں پر عملدرآمدکا مطالبہ

مظفرآباد:آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سمیت ریاست کے مختلف شہروں میں آج یوم سیاہ کے موقع پر بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے زیر اہتمام مظفر آباد میں برہان وانی چوک سے ڈی سی آفس تک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینرغلام محمد صفی نے ریلی کی قیادت کی جس میں جماعت اسلامی آزادکشمیر کے امیر ڈاکٹر مشتاق احمد، پیپلز پارٹی کے شوکت جاوید میر، الطاف حسین وانی، راجہ سجاد، زاہد اشرف، زاہد صفی، گلشن اقبال اورمشتاق الاسلام سمیت بڑی تعداد میں لوگوںنے شرکت کی۔مظاہرین نے” گو انڈیاگو بیک”،” بھارتی قبضے ختم کرو”، ”ہم آزادی چاہتے ہیں” اور” پاکستان زندہ باد ”کے فلک شگاف نعرے لگائے۔مقررین نے کہا کہ 27اکتوبر 1947کو بھارت نے کشمیری عوام کی خواہشات کے برخلاف سرینگر میں اپنی فوج اتار کر جموں و کشمیر پر غیر قانونی اور غیر اخلاقی طورپر قبضہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت کا یہ اقدام تقسیم برصغیرکے منصوبے، دو قومی نظریے اور تمام ملکی اور بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کی امنگوں کے بر خلاف بھی تھا۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کا قتل بھارتی ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں بھارتی افواج کی بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیاں اس استثنیٰ کا نتیجہ ہیں جو انہیں کالے قوانین کے تحت حاصل ہے۔ مقررین نے کہا کہ بھارت مقبوضہ علاقے میں غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کر کے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش کر رہا ہے لیکن کشمیری عوام اسے اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ مقررین نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی مظالم کا نوٹس لے اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔احتجاج کے اختتام پر اقوام متحدہ کے فوجی مبصرگروپ کو ایک یادداشت پیش کی گئی جس میں مقبوضہ علاقے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی مذمت کی گئی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا۔ مقررین نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اپنی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل کو یقینی بنا ئے۔

دریں اثناء آزاد جموں وکشمیر کے دیگر شہروں میں بھی لوگوں نے یوم سیاہ کی مناسبت سے بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے اورعالمی ادارے سے مطالبہ کیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لئے اپنی منظور شدہ قراردادوں پر عملدرآمدکو یقینی بنائے ۔ میرپور میں بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے کی قیادت سینئرحریت رہنما محمود احمد ساغر ،ملک اسلم اور دیگر رہنمائوںنے کی۔ مظاہرین نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر میں استصواب رائے کا اپنا وعدہ پورا کرے۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ جموں و کشمیر پر بھارت کا قبضہ تقسیم برصغیرکے منصوبے کی خلاف ورزی اور کشمیری عوام کی امنگوں کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے متعدد قراردادیں پاس کرنے کے باوجود اقوام متحدہ ان پر عمل درآمد کرانے میں ناکام رہا ہے۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری اپنی جدوجہد کواس کے منطقی انجام تک جاری رکھیں گے۔باغ میںسینئر حریت رہنما سید یوسف نسیم نے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کی ۔ مظاہرین نے بھارت مخالف اور آزادی کے حق میںنعرے لگائے۔ مظاہرین نے جدوجہد آزادی کو مکمل کامیابی تک جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ احتجاجی مظاہرے میں مذہبی، سیاسی اور سماجی شخصیات کے علاوہ مقامی لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کوٹلی میں بھی یوم سیاہ کی مناسبت سے احتجاجی مظاہرہ کیاگیا جس کی قیادت حریت رہنما ئوں منظوراحمدشاہ ، زاہد مجتبیٰ اور قاضی عمران نے کی ۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں کالے پرچم اٹھا رکھے تھے اورانہوں نے مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ راولاکوٹ ، بھمبروردیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور مقبوضہ جموں وکشمیر سے بھارتی فوج کے فوری انخلاء کا مطالبہ کیاگیا۔









