مودی حکومت کے متنازع چائلڈ میرج ایکٹ کو مسلمانوں پر تھوپنے کی کوشش ناکام
مودی سرکار مسلم پرسنل لاء کیخلاف پہلے بھی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتی رہی ہے

نئی دلی:بھارتی سپریم کورٹ نے چائلڈ میرج ایکٹ کا اطلاق مسلمانوں سمیت تمام مذاہب پر کرنے کی مودی حکومت کی درخواست کو مسترد کردیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سپریم کورٹ میں مودی حکومت نے کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے بنائے گئے مسلم قانون پرسنل لاء سے قطع نظر تمام مذاہب پر بلااستثنیٰ لاگو کرنے کی استدعا کی تھی۔تاہم سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ مودی حکومت نے عدالت کو پرسنل لاء اور چائلڈ میرج ایکٹ کے مابین اختلافات کی تفصیلی مثالیں فراہم نہیں کیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے بتایا کہ پارلیمنٹ میں اب بھی ایک بل زیر غور ہے جو واضح کرے گا کہ چائلڈ ایکٹ مروجہ پرسنل لاء پر فوقیت رکھتا ہے۔عدالت کے بقول اس نئے بل کی منظوری تک عدالت کوئی فیصلہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔ فی الحال فوری طور پر کوئی قانونی وضاحت جاری کرنا ممکن نہیں ہے۔تاہم عدالت نے بچوں کی شادی کے روک تھام کے حوالے سے متعدد رہنما اصول تجویز کیے ہیں، مگر پرسنل لا ء کے تسلسل کو ختم یا تبدیل کرنے کا حکم نہیں دیا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ فی الحال ذاتی قوانین مثلا مسلم پرسنل لا وغیرہ اور چائلڈ میرج ایکٹ کے مابین کسی حتمی ٹکرائو کا عدالتی فیصلہ نہیں آیا۔خیال رہے کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت لڑکیوں کی شادی کے لیے کم از کم عمر 18سال جب کہ لڑکوں کی 21 سال مقرر کی گئی ہے۔خلاف ورزی کی صورت میں عدالت کو شادی منسوخ کرنے کا اختیار ہے اگر لڑکے یا لڑکی کے والدین میں سے کسی ایک نے شکایت دائر کی ہو۔ علاوہ ازیں نابالغ شادی کروانے یا سہولت دینے والے والدین، سرپرست، پجاری یا قاضی وغیرہ کو قید یا جرمانہ کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ اسی طرح زبردستی، اغوا یا دھوکے سے نابالغ کی شادی کو کسی بھی صورت میں تسلیم نہیں کیا جائے گا۔






